حیدرآباد: تلنگانہ بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے حالیہ بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ ریونت ریڈی نے کہا تھا کہ اگر مرکز نے فیوچر سٹی منصوبے کے لیے فنڈ روک دیے تو وہ بی جے پی کو دفن کر دیں گے۔ راؤ نے کہا کہ اس طرح کی زبان قابل قبول نہیں اور خبردار کیا کہ اگر اسی رویے کا سلسلہ جاری رہا تو تلنگانہ کی عوام ہی ریونت ریڈی حکومت کو “دفن” کر دے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکز نے کبھی کسی شہر کے لیے فنڈز نہیں روکے اور پوچھا کہ حکومت نے فیوچر سٹی منصوبے پر کس سے مشورہ کیا۔
انہوں نے نیشنل ہیرالڈ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زمین سے متعلق تفصیلات اس وقت تک سامنے نہیں آئیں جب تک سپریم کورٹ نے حقائق واضح نہیں کیے۔ ان کے مطابق اس انکشاف نے معاملے کی سنگینی کو سب کے سامنے رکھ دیا ہے۔
بی جے پی لیڈر کا الزام اور عوامی فلاح کا مؤقف | Political Criticism
اپنی گفتگو میں راؤ نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا نے مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کروائیں۔ انہوں نے سنچار ساتھی پلیٹ فارم کو ملک کی ڈیجیٹل حکمتِ عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت کی ہر ڈیجیٹل اسکیم کا مقصد عوامی فلاح ہے اور تکنیکی سہولتوں کے ذریعے بدعنوانی اور دھوکہ دہی کو کم کرنا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بعض اپوزیشن جماعتیں سنچار ساتھی سے متعلق غلط فہمیاں پھیلا رہی ہیں۔ راؤ کے مطابق یہ دعوے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں اور پلیٹ فارم کے مقصد کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ نظام شہریوں کے تحفظ اور شفافیت کے لیے تیار کیا ہے۔
سیاسی ردعمل اور مستقبل کی بحث | Political Criticism
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں حالیہ بیان بازی مرکز اور ریاست کے درمیان تعلقات کی سیاسی حرکیات کو نمایاں کرتی ہے۔ راؤ کے سخت ردعمل نے واضح کر دیا کہ فیوچر سٹی جیسے بڑے منصوبوں پر سیاسی کشمکش مزید بڑھ سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں فنڈنگ، منصوبہ بندی اور شفافیت جیسے موضوعات بحث کا حصہ بنے رہیں گے۔
ریونت ریڈی کے بیان نے جہاں سیاسی ہلچل پیدا کی، وہیں بی جے پی قیادت کا ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ تلنگانہ میں سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوسکتا ہے۔ مختلف جماعتوں کے درمیان الزامات اور وضاحتوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، خصوصاً ان منصوبوں پر جن کا اثر ریاست کی طویل المدتی ترقی پر پڑتا ہے۔
