حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے گورنر کی سرکاری رہایش گاہ راج بھون کا نام تبدیل کرکے اسے لوک بھون قرار دے دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیا نام جمہوری اقدار کو مضبوط کرتا ہے اور ملک کے وکست بھارت کے سفر کی ترجمانی کرتا ہے۔ تمام سرکاری محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ریکارڈ، مراسلت اور آئندہ دستاویزات میں اسی نئے عنوان کا استعمال کریں۔
یہ تبدیلی مرکزی وزارتِ داخلہ کی 25 نومبر 2025 کو جاری کردہ ہدایت کے بعد کی گئی۔ 2024 کی گورنرز کانفرنس میں یہ سفارش سامنے آئی تھی کہ سابقہ نام نوآبادیاتی اثرات رکھتا ہے، اس لیے اسے تبدیل کرنا ضروری ہے۔ وزارت نے تمام ریاستوں سے کہا تھا کہ وہ لوک بھون کا نام فوری طور پر اختیار کریں۔
مرکز کی ہدایت پر نئے نام کا نفاذ | Lok Bhavan
وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں گورنر کے دفاتر کو حکم دیا کہ انتظامی کاموں میں نئے نام کا مکمل استعمال یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی لیفٹیننٹ گورنرز کی رہایش گاہوں کے لیے “لوک نیواس” کی اصطلاح تجویز کی گئی۔ ریاستی محکموں کو جاری فائلوں میں ترمیم، پرانے ٹیمپلیٹس کی درستگی اور آئندہ ہر حوالہ نئے عنوان کے ساتھ درج کرنے کی ہدایت دی گئی۔

تلنگانہ کے حکام نے کہا کہ یہ تبدیلی آئینی اداروں کو عوامی احساسات سے قریب لانے کی بڑی کوشش کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق اب گورنر کی رہایش گاہ سے متعلق ہر سرکاری دستاویز میں لوک بھون کا ہی حوالہ دیا جائے گا، تاکہ یکسانیت برقرار رہے۔
علامتی اہمیت اور انتظامی ہم آہنگی | Lok Bhavan
ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ نام کی تبدیلی محض رسمی اقدام نہیں بلکہ اس کا مقصد جمہوری اقدار کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے سرکاری زبان زیادہ عوامی اور شمولیتی بنے گی۔ محکموں کو تاکید کی گئی کہ وہ اس تبدیلی پر فوری عمل کریں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی غلط فہمی یا تضاد پیدا نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوک بھون کا نیا نام آئینی اختیار کو عوامی روح کے ساتھ جوڑنے کا ذریعہ بنے گا۔ ریاستی سطح پر ضروری ترامیم جاری ہیں اور تمام محکمے اپنے ریکارڈ کو نئے عنوان کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔
