حیدرآباد: تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرمارکا نے اکتوبر کے مہینے کے لیے ایک ہی مرحلے میں 1,032 کروڑ روپئے کے واجبات جاری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس رقم میں سرکاری ملازمین کے بقایا جات اور مختلف محکموں کے غیر ادا شدہ بلز شامل ہیں۔
یہ فیصلہ جمعہ کو پرجا بھون میں محکمہ خزانہ کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ جائزہ اجلاس کے بعد کیا گیا۔ بھٹی وکرمارکا سابقہ حکومت سے وراثت میں ملے واجبات کی مرحلہ وار ادائیگی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اب تک 712 کروڑ روپئے ملازمین کے واجبات کے طور پر جاری کیے گئے ہیں۔
آر اینڈ بی اور پنچایت راج کے 320 کروڑ کے بلز کی ادائیگی | Financial Clearance
محکمہ خزانہ نے آر اینڈ بی اور پنچایت راج محکموں کے تحت 320 کروڑ روپئے کے بلز کلیئر کر دیے ہیں۔ نئی پالیسی کے مطابق 10 لاکھ روپئے سے کم مالیت کے تمام بقایا بلز ادا کیے گئے۔
محکمہ آر اینڈ بی کے 3,610 بلز (مالیت 95 کروڑ روپئے) کی ادائیگی عمل میں آئی، جب کہ پنچایت راج اور دیہی اداروں کے 43,364 بلز (225 کروڑ روپئے) کی منظوری دی گئی۔
واجبات کی مرحلہ وار ادائیگی پر زور | Financial Clearance
اجلاس میں محکمہ خزانہ کے پرنسپل سکریٹری سندیپ کمار سلطانیہ اور دیگر افسران شریک ہوئے۔ افسران نے کہا کہ حکومت تمام محکموں کے بقایا جات کو مرحلہ وار اور مقررہ مدت میں کلیئر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
حکام کے مطابق بھٹی وکرمارکا مالی نظم و ضبط کو اپنی اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ سرکاری ملازمین کے بقایاجات، ٹھیکیداروں کے بلز اور دیگر واجبات کو شفاف اور منظم انداز میں نمٹانے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
