Women Empowerment
حیدرآباد:۔ تلنگانہ محکمہ جیل خانہ جات و اصلاحی خدمات نے بدھ کے روز خواتین قیدیوں کو پیشہ ور فیشن آرٹیزن بنانے کے مقصد سے رہائی پروگرام کا آغاز کیا۔ اس اقدام کے تحت خواتین قیدیوں کو جدید تربیت، برانڈنگ اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ باعزت روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔ مزید برآں اس پروگرام کا مقصد انہیں مالی طور پر خودمختار بناتے ہوئے معاشرے میں باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔
محکمہ جیل خانہ جات و اصلاحی خدمات کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سومیا مشرا نے حیدرآباد کی خصوصی خواتین جیل میں ری ہیبلیٹیشن اینڈ ایمپاورمنٹ انیشی ایٹو فار ویمن انمیٹس (ریہائی) پروگرام کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے محکمہ نے ہر رائٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ شراکت داری کی، جس کی نمائندگی دیویا ریڈی اور بوبی کندھاری کر رہے ہیں۔ یہ پروگرام محکمہ جیل خانہ جات اور نیشنل اکیڈمی آف کنسٹرکشن کے اشتراک سے پہلے منعقد کیے گئے 100 روزہ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کی توسیع ہے، جس کے ذریعے خواتین قیدیوں کی سلائی اور کشیدہ کاری کی مہارت کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ جدید ڈیزائننگ، پروڈکٹ ڈیولپمنٹ، برانڈنگ اور مارکیٹ روابط کی بھی تربیت دی جائے گی۔
عالمی منڈی تک رسائی کی تیاری | Women Empowerment
محکمہ نے بتایا کہ رہائی پروگرام کے تحت تیار کی جانے والی مصنوعات تلنگانہ محکمہ جیل خانہ جات کے اپ اسکیل اور ہائی سوسائٹی مارکیٹ کے ذریعے فروخت کی جائیں گی۔ بعد ازاں ان مصنوعات کی فروخت کو جنوبی ہند تک وسعت دی جائے گی، جبکہ اگلے مرحلے میں قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
معروف فیشن ماہر دیویا ریڈی، جو ممتاز ڈیزائنرز کے ساتھ کام کر چکی ہیں اور لکمے فیشن ویک میں بھی شرکت کر چکی ہیں، خواتین قیدیوں کی رہنمائی کریں گی۔ وہ جدید فیشن، اعلیٰ معیار اور پروڈکٹ فنشنگ کی تربیت فراہم کریں گی تاکہ تیار شدہ ملبوسات پریمیم مارکیٹ کے تقاضے پورے کر سکیں۔ مزید یہ کہ محکمہ جیل خانہ جات اور ہر رائٹس فاؤنڈیشن لندن میں ایک خصوصی ڈیزائنر فیشن شو منعقد کرنے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں، جہاں خواتین قیدیوں کے تیار کردہ ملبوسات بین الاقوامی سامعین کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
بحالی، وقار اور معاشی خودمختاری پر توجہ | Women Empowerment
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سومیا مشرا نے کہا کہ بحالی کا عمل صرف فنی تربیت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ رہنمائی، جدید مہارت اور مارکیٹ تک رسائی خواتین قیدیوں کو نئی زندگی شروع کرنے، باوقار روزگار حاصل کرنے اور مالی خودمختاری کی جانب بڑھنے میں مدد دے گی۔ اس موقع پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پریزنز ڈاکٹر ڈی سرینواس، سینٹرل جیل حیدرآباد کے سپرنٹنڈنٹ این شیوا کمار گوڑ، خصوصی خواتین جیل کی سپرنٹنڈنٹ ٹی وینکٹا لکشمی سریناتھ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پریزنز بی امراوتی، ہر رائٹس فاؤنڈیشن کے نمائندے، محکمہ جیل خانہ جات کے افسران، عملہ اور خواتین قیدی بھی موجود تھے۔
