کچرا صفائی کی نجکاری کے خلاف احتجاج| Waste Collection Privatization
حیدرآباد:۔ جی ایچ ایم سی کچرا صفائی کی نجکاری کے خلاف سوچھ آٹو ورکرز نے احتجاج کیا۔ یہ احتجاج ہفتہ کو اسمبلی کے قریب کیا گیا۔ کارکنوں نے گھر گھر کچرا جمع کرنے کا کام نجی اداروں کو دینے کی مخالفت کی۔
کارکن اسمبلی کی طرف مارچ کررہے تھے۔ تاہم، پولیس نے انہیں راستے میں روک دیا۔ کارکنوں نے حکومت سے نجکاری کی تجویز فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
کارکنوں نے قانون ساز کونسل میں وزیر سری دھر بابو کے بیان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نجی اداروں کو اپنا کام نہیں دینا چاہتے۔ مزید برآں، انہوں نے حکومت سے روزگار متاثر نہ کرنے کی اپیل کی۔
نجکاری کے خلاف سوچھ آٹو ورکرز کا احتجاج | Waste Collection Privatization
کارکنوں نے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے اس کام پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، نجکاری سے ان کی روزی متاثر ہوگی۔ اسی لیے، انہوں نے حکومت سے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین پلے کارڈز اٹھا کر اسمبلی کی طرف بڑھے۔ پولیس نے انہیں راستے میں روک دیا۔ اس کارروائی کے بعد کئی کارکن سڑک پر بیٹھ گئے اور ٹریفک متاثر ہوئی۔
کچھ مظاہرین سڑک پر لیٹ گئے۔ دیگر کارکن اسمبلی احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ چنانچہ، پولیس نے احتجاج روکنے کے لیے اپنی کارروائی تیز کردی۔
پولیس کارروائی کے بعد احتجاج میں شدت | Waste Collection Privatization
پولیس نے کئی کارکنوں کو حراست میں لیا۔ بعد ازاں، پولیس نے انہیں مقامی تھانوں منتقل کردیا۔ اس کارروائی سے احتجاج کے دوران کشیدگی بڑھ گئی۔
مظاہرین نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مداخلت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ان کے مسئلے کو سمجھیں۔ انہوں نے فوری مداخلت اور انصاف کا مطالبہ بھی کیا۔
کارکنوں نے نجی کمپنیوں کو کچرا صفائی دینے کے نتائج سے خبردار کیا۔ ان کے مطابق، اس فیصلے سے ہزاروں خاندان سڑک پر آسکتے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے حکومت سے فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی۔
مظاہرین نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے اسمبلی گھیراؤ کے ذریعے اپنی مخالفت ظاہر کی۔ یوں، سوچھ آٹو ورکرز نے موجودہ کچرا صفائی نظام میں تبدیلی کی مخالفت کی۔
دوسری جانب، کارکنوں نے اپنی روزی روٹی کے تحفظ کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے حکومت سے نجکاری کی تجویز ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ لہٰذا، احتجاج کا مقصد موجودہ روزگار کا تحفظ رہا۔
