مردہ خانے میں لاش کو چوہوں کے کاٹنے کی شکایت | Wardhannapet Mortuary Inquiry
حیدرآباد:۔ تلنگانہ انسانی حقوق کمیشن نے سرکاری اسپتال کے مردہ خانے میں لاش کو چوہوں کے کاٹنے کی اطلاعات پر ازخود کارروائی شروع کردی ہے۔ یہ واقعہ ضلع ورنگل کے گورنمنٹ ایریا اسپتال، وردھنا پیٹ میں پیش آنے کی اطلاع ہے۔ کمیشن نے پیر کو کئی اخبارات میں شائع رپورٹس کا جائزہ لیا۔
یہ کارروائی کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر جسٹس شمیم اختر کی ہدایت پر شروع ہوئی۔ رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن نے ضلع کلکٹر ورنگل سے جامع رپورٹ طلب کی۔ رپورٹ میں واقعے کے حالات اور مردہ خانے میں لاش رکھنے کے انتظامات کی تفصیلات دینا ہوں گی۔
لاش رکھنے کے انتظامات پر رپورٹ طلب | Wardhannapet Mortuary Inquiry
یہ معاملہ رائے پرتی منڈل کے رہنے والے 58 سالہ گارے ویریا کی موت سے متعلق ہے۔ وہ سڑک حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے بعد اسپتال حکام نے ان کی لاش رات بھر وردھنا پیٹ سرکاری اسپتال کے مردہ خانے میں رکھی۔
اگلی صبح لاش کا معائنہ کیا گیا۔ اخباری رپورٹس کے مطابق آنکھوں اور اوپری پلکوں کے قریب چوہوں کے کاٹنے کے نشانات پائے گئے۔ ان اطلاعات کے بعد انسانی حقوق کمیشن نے ضلع انتظامیہ سے واقعے کی تفصیلات طلب کیں۔
کمیشن نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں کی ذمہ داری ہے کہ مردہ خانوں میں لاشوں کو باوقار اور انسانی انداز میں رکھا جائے۔ اسی لیے کمیشن نے الزامات کی سرکاری رپورٹ کے ذریعے جانچ ضروری قرار دی۔
ضلع کلکٹر کو مردہ خانے کے اندرونی حالات کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ رپورٹ میں اسپتال میں دستیاب سہولیات اور مردہ خانے کی دیکھ بھال کے اقدامات بھی شامل ہوں گے۔ مزید برآں، کمیشن نے فریزر کی دستیابی سے متعلق بھی واضح معلومات طلب کی ہیں۔
رپورٹ میں اسپتال میں بجلی کی سہولت کی تفصیلات بھی دینا ہوں گی۔ اس کے علاوہ صفائی کے انتظامات اور مردہ خانے کی حالت سے متعلق معلومات پیش کرنا ہوں گی۔ کمیشن نے چوہوں اور کیڑوں کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
ضلع انتظامیہ کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ لاش پر رپورٹ کیے گئے زخم کن حالات میں آئے۔ حکام کو رات بھر لاش رکھنے کے مکمل حالات واضح کرنے ہوں گے۔ اس سے واقعے کی اصل صورتحال جانچنے میں مدد ملے گی۔
ذمہ دار عملہ اور حفاظتی اقدامات کی تفصیلات | Wardhannapet Mortuary Inquiry
کمیشن نے مردہ خانے کے انتظام کی ذمہ داری رکھنے والے افسران اور ملازمین کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ جامع رپورٹ میں ان کے فرائض اور ذمہ داریاں واضح کرنا ہوں گی۔ اس کے ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے اقدامات بھی بیان کرنا ہوں گے۔
ضلع انتظامیہ کو یہ بتانا ہوگا کہ فوری اصلاحی اقدامات کیا کیے گئے ہیں۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مجوزہ اقدامات بھی رپورٹ میں شامل ہوں گے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ اخباری الزامات درست ثابت ہونے پر مناسب کارروائی کی جانی چاہیے۔
رپورٹ میں مردہ خانے کی جسمانی حالت اور بنیادی سہولیات کا جائزہ بھی شامل ہوگا۔ بجلی، صفائی، لاشوں کو محفوظ رکھنے کی سہولت اور چوہوں کی روک تھام پر خاص توجہ دی جائے گی۔ اسی دوران ذمہ دار افسران اور عملے کی تفصیلات بھی کمیشن کے سامنے رکھی جائیں گی۔
کمیشن نے پیر کو مختلف اخبارات میں شائع رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد یہ کارروائی کی۔ چنانچہ موجودہ کارروائی کا مقصد واقعے کا سرکاری ریکارڈ حاصل کرنا اور مبینہ زخموں کے حالات واضح کرنا ہے۔
کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لے گا | Wardhannapet Mortuary Inquiry
یہ معاملہ 27 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ضلع کلکٹر ورنگل سے توقع ہے کہ وہ اسی تاریخ کو کمیشن کے سامنے جامع رپورٹ پیش کریں گے۔ بعد ازاں کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لے گا۔
اگلی سماعت میں ضلع انتظامیہ کی رپورٹ میں پیش کیے گئے حقائق پر غور کیا جائے گا۔ کمیشن یہ بھی دیکھے گا کہ اخباری رپورٹس میں بیان کردہ الزامات تحقیقات سے ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔
اس واقعے نے سرکاری اسپتالوں کے مردہ خانوں میں لاشوں کی دیکھ بھال کے انتظامات پر توجہ مرکوز کی ہے۔ کمیشن نے وردھنا پیٹ اسپتال میں سہولیات، ذمہ دار عملے اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مخصوص معلومات طلب کی ہیں۔
فراہم کردہ رپورٹ میں ضلع انتظامیہ کے حتمی نتائج کا ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح اسپتال کے عملے کے خلاف پہلے سے کی گئی کسی کارروائی کی تفصیلات بھی موجود نہیں ہیں۔
اب معاملے کی اگلی پیش رفت ضلع کلکٹر ورنگل کی جامع رپورٹ پر منحصر ہے۔ تلنگانہ انسانی حقوق کمیشن میں یہ معاملہ 27 اکتوبر کو دوبارہ سماعت کے لیے پیش ہوگا۔
