ووٹر فہرستوں پر رام مادھو کا کانگریس پر سوال | Voter List Revision
حیدرآباد:۔ بی جے پی کے قومی نائب صدر رام مادھو نے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے میں راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی انتخابی فہرستوں کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کی تاریخ کو نظر انداز کررہے ہیں۔ رام مادھو نے الیکشن کمیشن کی کارروائی کا دفاع کیا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اس عمل میں حصہ لینے کی اپیل کی۔
میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رام مادھو نے 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کرنے کے دعوے کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں نام حذف کیے جاتے تو سڑکوں پر عوامی احتجاج شروع ہوجاتا۔
ان کے مطابق تقریباً 6 کروڑ افراد ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل ہوئے ہیں۔ اس عمل کے دوران فوت شدہ ووٹروں کے 3 کروڑ اندراجات بھی حذف کیے گئے۔ مزید برآں، حکام نے 1 کروڑ فرضی یا دہرے اندراجات بھی فہرستوں سے نکال دیے۔
رام مادھو نے کہا کہ الیکشن کمیشن مزید تقریباً 2 سے ڈھائی کروڑ ناموں کے حذف کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عمل ابھی جاری ہے۔
ایس آئی آر میں تمام جماعتوں کی شمولیت | Voter List Revision
رام مادھو نے کہا کہ بی جے پی اس عمل میں حصہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کانگریس سے بھی کارروائی میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق ہر سیاسی جماعت کو انتخابی فہرستوں کی نظرثانی میں تعاون کرنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا عمل وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں شروع نہیں ہوا۔ ان کے مطابق انتخابی فہرستوں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔
رام مادھو نے سوال اٹھایا کہ کیا حکام کو فوت شدہ ووٹروں کے نام فہرستوں میں برقرار رکھنے چاہئیں؟ انہوں نے زور دیا کہ غیر قانونی تارکین وطن کے ووٹ اندراجات بھی حذف کیے جانے چاہئیں۔
کانگریس کے ردعمل پر رام مادھو کی تنقید | Voter List Revision
رام مادھو نے سوال کیا کہ کانگریس نے الیکشن کمیشن کی کارروائی پر اتنا سخت ردعمل کیوں ظاہر کیا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کی تاریخ غیر قانونی تارکین وطن کے ووٹوں پر انحصار سے جڑی رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نے انتخابات جیتنے کے لیے ایسے ووٹوں سے فائدہ اٹھایا۔
انہوں نے ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹر فہرستوں کو درست اور تازہ رکھنے کے لیے سیاسی جماعتوں کا تعاون ضروری ہے۔
