Victims Protest
حیدرآباد:۔ شاہ آباد قتل کیس میں مقتولین کے لواحقین نے ہفتہ کے روز سڑک پر احتجاج کیا۔ انہوں نے پولیس پر پہلے درج پوکسو مقدمے میں غفلت برتنے کا الزام عائد کیا۔ مزید برآں انہوں نے متاثرہ خاندان کے لیے ₹1 کروڑ بطور ایکس گریشیا دینے کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج رنگا ریڈی ضلع کے شاہ آباد منڈل کے دیوالاگوڈا گاؤں میں 6 افراد کے قتل کے بعد کیا گیا۔ لواحقین نے شاد آباد۔شاد نگر مرکزی سڑک پر دھرنا دیا۔ احتجاج کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت 3 گھنٹے سے زیادہ متاثر رہی۔
سڑک بلاک، ٹریفک شدید متاثر | Victims Protest
احتجاج کے باعث تقریباً 12 کلومیٹر طویل ٹریفک جام لگ گیا۔ شاہ آباد سے سردار نگر اور شاد نگر کے قریب ایلی کٹہ تک گاڑیاں پھنسی رہیں۔ دوسری جانب نگرگوڈا تک بھی ٹریفک کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ چنانچہ پولیس نے اضافی اہلکار تعینات کرکے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔
لواحقین نے الزام لگایا کہ پہلے درج پوکسو مقدمے میں پولیس نے بروقت کارروائی نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ حکام فوری اقدامات کرتے تو اس سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔ تاہم انہوں نے اس معاملے میں ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
معاوضے اور تحقیقات کا مطالبہ | Victims Protest
مظاہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پولیس ملزم راج کمار کے موبائل فون کا سگنل بروقت کیوں تلاش نہیں کر سکی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاندان کی ایک اور لڑکی معذور ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے خاندان کے لیے ₹1 کروڑ بطور ایکس گریشیا منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں پولیس نے احتجاج ختم کرانے اور ٹریفک بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ یوں متاثرہ علاقوں میں معمول کی آمد و رفت بحال کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ شاہ آباد قتل کیس کی تحقیقات بھی مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔
