نیپالی وفد نے تلنگانہ کے شہری نظم و نسق کا جائزہ لیا | Urban Governance Reforms
حیدرآباد:۔ نیپال کے 21 میئرز، بلدیاتی چیئرمینوں اور سرکاری افسران پر مشتمل وفد نے تلنگانہ کے شہری نظم و نسق کے اصلاحاتی ماڈل کا مطالعہ شروع کر دیا۔ یہ دورہ 10 روزہ بین الاقوامی تربیتی پروگرام کا حصہ ہے۔
یہ پروگرام نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایتی راج نے وزارت خارجہ کے تعاون سے منعقد کیا ہے۔ مزید برآں وفد 3 اور 4 اگست کو حیدرآباد میں خصوصی تربیت حاصل کرے گا۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن مینجمنٹ کی نگرانی میں وفد کو شہری انتظامیہ، بلدیاتی اصلاحات اور پائیدار ترقی سے متعلق تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ادارے میں تلنگانہ کے شہری نظم و نسق کے ماڈل پر خصوصی تعارفی اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔
حکام نے وفد کو بلدیاتی اصلاحات، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج نظام، شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مختلف سرکاری اسکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یوں شرکا کو ریاست میں نافذ جدید انتظامی طریقۂ کار سے آگاہ کیا گیا۔
تلنگانہ کے کامیاب ماڈلز پیش کیے گئے | Urban Governance Reforms
حکام نے وفد کو تلنگانہ کی جدید شہری ترقیاتی حکمت عملی سے بھی متعارف کرایا۔ مزید برآں ریاست میں اختیار کیے گئے کامیاب انتظامی ماڈلز اور مؤثر طرز حکمرانی کی مثالیں پیش کی گئیں۔
وفد کو بتایا گیا کہ شہری خدمات کی بہتری کے لیے جدید منصوبہ بندی اور مؤثر بلدیاتی نظام اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چنانچہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے عملی نتائج بھی شرکا کے سامنے رکھے گئے۔
جدید ویسٹ مینجمنٹ منصوبوں کا معائنہ | Urban Governance Reforms
نیپالی وفد جواہر نگر انٹیگریٹڈ میونسپل سالڈ ویسٹ مینجمنٹ فیسلٹی کا دورہ کرے گا۔ اسی دوران وفد امبرپیٹ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فیکل سلج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا بھی معائنہ کرے گا۔
ان دوروں کے دوران وفد جدید کچرا انتظامی نظام کا عملی مشاہدہ کرے گا۔ اس کے علاوہ سیوریج ٹریٹمنٹ، فضلہ ٹھکانے لگانے کے طریقۂ کار اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
منتظمین نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام سے بھارت اور نیپال کے درمیان شہری نظم و نسق کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ لہٰذا مقامی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور بہترین انتظامی تجربات کے اشتراک کو بھی فروغ ملے گا۔
