Upper Middle Income
حیدرآباد:۔ تلنگانہ عالمی بینک کی اپر مڈل انکم معیشتوں کے زمرے میں شامل ہو گیا ہے۔ ریاست نے فی کس آمدنی کی مقررہ حد عبور کرکے یہ مقام حاصل کیا۔
2025-26 کے تخمینوں کے مطابق تلنگانہ کی فی کس آمدنی ₹4,18,931 رہی۔ یہ تقریباً USD 5,407 کے برابر ہے۔
عالمی درجہ بندی میں نمایاں مقام | Upper Middle Income
عالمی بینک کے مطابق USD 4,636 سے USD 14,375 تک فی کس آمدنی رکھنے والی معیشتیں اپر مڈل انکم زمرے میں شامل ہوتی ہیں۔ تلنگانہ اس معیار پر پورا اترنے والی بھارت کی صرف 5 ریاستوں میں شامل ہے۔
تلنگانہ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رہا۔ تاہم دہلی USD 6,217 کے ساتھ پہلے اور کرناٹک USD 5,579 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
مزید برآں تلنگانہ نے تمل ناڈو اور گجرات کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تمل ناڈو کی فی کس آمدنی USD 5,329 جبکہ گجرات کی USD 4,734 ریکارڈ کی گئی۔
2014 میں ریاست کے قیام کے وقت فی کس آمدنی ₹1.24 لاکھ تھی۔ بعد ازاں یہ بڑھ کر 2025-26 میں تقریباً ₹4.19 لاکھ تک پہنچ گئی۔
معیشت میں مسلسل وسعت | Upper Middle Income
تلنگانہ کی فی کس آمدنی قومی اوسط سے تقریباً 1.9 گنا زیادہ رہی۔ 2025-26 کے لیے قومی اوسط ₹2.19 لاکھ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رنگا ریڈی ضلع نے ₹11.29 لاکھ کے ساتھ ریاست میں سب سے زیادہ فی کس آمدنی ریکارڈ کی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد ₹4.77 لاکھ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
2019-20 سے 2024-25 تک تلنگانہ بڑی ریاستوں میں فی کس آمدنی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر رہا۔ تاہم 2025-26 کے تخمینوں میں کرناٹک اس سے آگے نکل گیا۔
ریاست کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار 2014 سے 2023 کے درمیان اوسطاً 12.7 فیصد سالانہ بڑھی۔ دوسری جانب قومی اوسط 10.5 فیصد رہی۔
2025-26 کے لیے تلنگانہ کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار ₹17.82 لاکھ کروڑ رہنے کا اندازہ ہے۔ چنانچہ ریاست کی اقتصادی شرح نمو 10.7 فیصد متوقع ہے۔
اسی دوران بھارت کی مجموعی معیشت میں تلنگانہ کا حصہ 2014-15 کے 4 فیصد سے بڑھ کر 2022-23 میں 4.8 فیصد ہو گیا۔ تاہم حالیہ معاشی اشاریوں کے مطابق ترقی کی رفتار میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن ریاست اب بھی ملک کی نمایاں معیشتوں میں شمار ہوتی ہے۔
