ٹیسیریکٹ اراضی الاٹمنٹ پر اٹھے سوال | Tesseract Land Deal
حیدرآباد:۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے ٹیسیریکٹ اراضی الاٹمنٹ کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تقریباً 5 ایکڑ سرکاری اراضی کے الاٹمنٹ پر سوالات اٹھائے۔ کے ٹی آر کے مطابق اس اراضی کی مالیت تقریباً 200 کروڑ روپے ہے۔
کے ٹی آر نے منگل کو حیدرآباد میں بی آر ایس ہیڈکوارٹر پر میڈیا سے بات کی۔ انہوں نے ٹیسیریکٹ ایڈوانسڈ سسٹمز کو اراضی الاٹمنٹ پر سوال اٹھایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی کا تعلق چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے بھائی انومولا کونڈل ریڈی سے ہے۔
کے ٹی آر نے کمپنی کی مالی اور افرادی قوت کی تفصیلات کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق 31 مارچ 2025 تک کمپنی میں کوئی ملازم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کا ادا شدہ سرمایہ صرف 1 لاکھ روپے تھا۔
ٹیسیریکٹ کمپنی کے ریکارڈ پر کے ٹی آر کے سوالات | Tesseract Land Deal
کے ٹی آر نے کہا کہ تقریباً 5 ایکڑ اراضی کی مالیت 200 کروڑ روپے کے قریب ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کو یہ اراضی تقریباً 7 کروڑ روپے میں دی گئی۔ انہوں نے فی مربع گز تقریباً 3,700 روپے کی شرح کا بھی حوالہ دیا۔
کے ٹی آر نے سوال کیا کہ صفر ملازمین والی کمپنی کو اتنی قیمتی سرکاری اراضی کیسے ملی۔ انہوں نے کہا کہ 1 لاکھ روپے کے ادا شدہ سرمائے والی کمپنی کو 200 کروڑ روپے کی اراضی دینا قابل سوال ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو مبینہ اسکینڈل قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بی آر ایس لیڈر نے حکومت سے تمام متعلقہ دستاویزات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان دستاویزات میں سرکاری حکم نامہ بھی شامل ہونا چاہیے۔ اراضی کی قیمت اور الاٹمنٹ کی شرائط بھی عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا۔
کے ٹی آر نے سرمایہ کاری کی تجویز اور روزگار سے متعلق وعدوں کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ انہوں نے فیصلہ سازی میں شامل عہدیداروں کی تفصیلات جاری کرنے کو کہا۔ ان کے مطابق مکمل لین دین کا ریکارڈ عوامی سطح پر دستیاب ہونا چاہیے۔
کے ٹی آر نے وزیر ڈی سری دھر بابو کے ایک دعوے پر بھی سوال اٹھایا۔ وزیر نے کہا تھا کہ کونڈل ریڈی کا ٹیسیریکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کے ٹی آر نے اس کے جواب میں کونڈل ریڈی کے لنکڈ اِن پروفائل کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ یو ایس-انڈیا اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم نے کونڈل ریڈی کو ٹیسیریکٹ ایڈوانسڈ سسٹمز کا چیئرمین بتایا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق خبر میں پیش کردہ معلومات سے نہیں ہوتی۔ کے ٹی آر نے حکومت سے اس تعلق کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔
گورنر سے شکایت اور مزید تحقیقات کا اعلان | Tesseract Land Deal
کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس اس معاملے پر تلنگانہ کے گورنر سے باضابطہ شکایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پارٹی لوک آیکت اور عدالتوں سے بھی رجوع کرے گی۔ ان کے مطابق حقائق سامنے آنے تک بی آر ایس معاملہ اٹھاتی رہے گی۔
کے ٹی آر نے چیف منسٹر کے خاندان کے بعض افراد سے متعلق دیگر کاروباری معاملات پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے مبینہ اراضی اور کنٹریکٹ لین دین کی جامع جانچ کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق تمام معاملات کی جانچ ہونی چاہیے۔
انہوں نے فیصلہ سازی کے عمل اور نجی اداروں کو ملنے والے فوائد کی بھی چھان بین کا مطالبہ کیا۔ کے ٹی آر نے اراضی معاملے کو سرکاری وسائل کے وسیع تر استعمال سے جوڑا۔ بی آر ایس لیڈر نے حکومت سے مکمل شفافیت اختیار کرنے پر زور دیا۔
کے ٹی آر نے اس موقع پر تلنگانہ کے آبپاشی مسائل بھی اٹھائے۔ انہوں نے گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ کے اجلاس سے متعلق حکومت کو خبردار کیا۔ ان کے مطابق 7 تلنگانہ منصوبوں کی منظوری منسوخ کرنے کی تجویز ایجنڈے میں برقرار رہی تو ریاست کو اجلاس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔
آبپاشی منصوبوں پر جل یدھم کی وارننگ | Tesseract Land Deal
کے ٹی آر نے کہا کہ مسئلہ برقرار رہا تو بی آر ایس تلنگانہ میں جل یدھم شروع کرے گی۔ انہوں نے ریاست کے آبپاشی حقوق کے دفاع کے لیے احتجاج تیز کرنے کا انتباہ دیا۔ پارٹی نے گوداوری سے متعلق ریاستی مفادات کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے ارکان کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ کے ٹی آر نے کانگریس اور بی جے پی کے ارکان پر ریاست کی آواز مضبوطی سے نہ اٹھانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے پالمورو-رنگاریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم کے لیے قومی درجہ کا مطالبہ بھی دہرایا۔
کے ٹی آر نے تلنگانہ کے 8 کانگریس اور 8 بی جے پی ارکان کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اس صورتحال کو ’’8 + 8 = 0‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے آبپاشی مطالبات پارلیمنٹ میں مؤثر انداز میں اٹھائے جانے چاہئیں۔
بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ نے نرلاپور اور کنی پلی پمپ ہاؤس فوری طور پر شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کسانوں تک آبپاشی پانی پہنچانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق دعاؤں اور رسومات کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
یوں کے ٹی آر کے مطالبات میں اراضی الاٹمنٹ اور آبپاشی دونوں اہم مسائل شامل رہے۔ بی آر ایس نے حکومت سے ٹیسیریکٹ معاملے پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے آبپاشی منصوبوں پر بھی فوری حکومتی اقدام پر زور دیا۔
Phone Number – 123456789
Employees – ZERO
Paid Up Capital – Just Rs.1 Lakh
Allotment – Crores worth Govt Land
Chairman – CM’s brother Kondal ReddyKTR’s detailed expose countering Minister Sridhar Babu & explaining misuse of office by CM Revanth.. pic.twitter.com/yBp8s6JmVf
— Dr.Krishank (@Krishank_BRS) August 11, 2026
