Telangana Water Crisis
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت نے کہا ہے کہ ریاست کے کرشنا اور گوداوری طاس کے آبی ذخائر میں صرف 42.18 ٹی ایم سی قابل استعمال پانی باقی ہے۔ حکومت کے مطابق دستیاب پانی کو بنیادی طور پر پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محفوظ رکھا جائے گا۔ لہٰذا دیگر مقاصد کے لیے پانی کے استعمال پر صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔
یہ تخمینہ ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر تیار کیے گئے ریاستی ہنگامی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تلنگانہ کے بڑے اور درمیانے درجے کے ذخائر میں قابل استعمال پانی کی مقدار انتہائی محدود رہ گئی ہے۔
گوداوری اور کرشنا طاس کی صورتحال | Telangana Water Crisis
رپورٹ کے مطابق گوداوری طاس میں 7 بڑے اور 28 درمیانے درجے کے آبی ذخائر موجود ہیں۔ ان ذخائر میں 37.21 ٹی ایم سی پانی ڈیڈ اسٹوریج میں ہے۔ تاہم صرف 27.69 ٹی ایم سی پانی ہی قابل استعمال ہے۔
کرشنا طاس میں صورتحال مزید سنگین بتائی گئی ہے۔ اس طاس میں 2 بڑے اور 8 درمیانے درجے کے آبی ذخائر موجود ہیں۔ یہاں 136.53 ٹی ایم سی پانی ڈیڈ اسٹوریج میں چلا گیا ہے۔ یوں صرف 14.81 ٹی ایم سی پانی استعمال کے لیے دستیاب رہ گیا ہے۔
بارش پر حکومتی نظریں | Telangana Water Crisis
حکومت نے کہا ہے کہ بالائی علاقوں میں مناسب بارش اور سیلابی پانی کی آمد تک اضافی پانی کی توقع نہیں ہے۔ چنانچہ موجودہ ذخائر کو زیادہ تر پینے کے پانی کی ضروریات کے لیے محفوظ رکھا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم ہوتے آبی ذخائر ریاستی آبی وسائل پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ مزید برآں حکام مانسون کے دوران بارش اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد پر مسلسل نظر رکھیں گے۔ یوں مستقبل میں پانی کی دستیابی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
