تملّا ناگیشور راو کے تلنگانہ کے لیے اہم مطالبات | Telangana Key Issues
حیدرآباد:۔ وزیر زراعت تُملّا ناگیشور راؤ نے مہابلی پورم میں 31 ویں ساوتھ زونل کونسل اجلاس میں تلنگانہ کے اہم مسائل پیش کیے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو کو الگ الگ خطوط بھیجے۔ مزید برآں، انہوں نے زیر التوا بین الریاستی معاملات جلد حل کرنے کی درخواست کی۔
اجلاس کی صدارت مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کی۔ تلنگانہ کی نمائندگی نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارکا نے کی۔ اس کے علاوہ، تُملّا ناگیشور راؤ بھی اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوئے۔
وزیر نے بھدراچلم کے قریب واقع 5 گرام پنچایتوں کو تلنگانہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پیڈاواگو آبپاشی منصوبے کی بحالی کے لیے آندھرا پردیش سے مالی حصہ بھی مانگا۔ مزید برآں، انہوں نے آئل پام کے تازہ پھلوں کی کم از کم قیمت مقرر کرنے کی حمایت طلب کی۔
انہوں نے بھدراچلم۔ایلورو بین الریاستی سڑک کو قومی شاہراہ قرار دینے کی بھی درخواست کی۔ لہٰذا، تلنگانہ حکومت نے اجلاس میں کئی اہم عوامی اور انتظامی معاملات نمایاں کیے۔
بھدراچلم کی پنچایتوں کا انضمام | Telangana Key Issues
تُملّا ناگیشور راؤ نے امیت شاہ سے 5 گرام پنچایتوں کو تلنگانہ میں شامل کرنے کی اپیل کی۔ ان پنچایتوں میں یتاپکا، کنّایہ گوڈیم، پچوکلاپاڈو، پروشوتھاپٹنم اور گنڈالا شامل ہیں۔
یہ 5 پنچایتیں مجموعی طور پر 19 ریونیو دیہات پر مشتمل ہیں۔ ان کا کل رقبہ 11,122.01 ایکڑ بتایا گیا۔ مزید برآں، وزیر نے کہا کہ یہ تمام علاقے بھدرادری کوتھا گوڈیم ضلع میں شامل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامی صورتحال عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ ضلع الوری سیتا راما راجو کا ہیڈکوارٹر تقریباً 282 کلومیٹر دور ہے۔ اس کے برعکس، بھدرادری کوتھا گوڈیم صرف 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اسی دوران، قبائلی آبادی کو زرعی پیداوار اور جنگلاتی اشیا کی نقل و حمل میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ وزیر نے کہا کہ بین الریاستی چیک پوسٹیں بھی مسائل میں اضافہ کرتی ہیں۔
انہوں نے سری سیتا رام چندر سوامی مندر کا معاملہ بھی اٹھایا۔ مندر تلنگانہ میں واقع ہے۔ تاہم، اس کی بڑی اراضی پروشوتھاپٹنم میں موجود ہے۔ لہٰذا، جائیداد کے انتظام میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
پیڈاواگو منصوبہ اور کسانوں کے مفادات | Telangana Key Issues
وزیر نے پیڈاواگو درمیانی آبپاشی منصوبے کی مستقل بحالی کے لیے آندھرا پردیش سے مالی تعاون مانگا۔ یہ منصوبہ بھدرادری کوتھا گوڈیم ضلع کے اشواراؤپیٹ منڈل میں واقع ہے۔
18 جولائی 2024 کو شدید بارش سے منصوبے کو نقصان پہنچا تھا۔ اس کے بعد تلنگانہ نے عارضی بحالی کا کام مکمل کیا۔ مزید برآں، رنگ بند تعمیر کر کے دونوں ریاستوں کو پانی کی فراہمی بحال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ 16,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کرتا ہے۔ ان میں 13,640 ایکڑ آندھرا پردیش میں واقع ہیں۔ مستقل بحالی پر 92.20 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔
وزیر نے کہا کہ منصوبے کے 85.25 فیصد رقبے سے آندھرا پردیش فائدہ اٹھاتا ہے۔ لہٰذا، اسی تناسب سے مالی حصہ فوری جاری کیا جانا چاہیے۔
آئل پام قیمت اور قومی شاہراہ کا مطالبہ | Telangana Key Issues
تُملّا ناگیشور راؤ نے آئل پام کے تازہ پھلوں کی کم از کم قیمت 25,000 روپے فی ٹن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس معاملے پر آندھرا پردیش سے تعاون بھی مانگا۔
انہوں نے کہا کہ آئل پام کی کاشت پر ابتدائی سرمایہ زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ مزید برآں، پیداوار حاصل ہونے میں بھی کافی وقت لگتا ہے۔ عالمی منڈی کی قیمتیں بھی کسانوں کی آمدنی متاثر کرتی ہیں۔
وزیر نے کہا کہ یقینی کم از کم قیمت کسانوں کو بہتر تحفظ دے گی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے پیداواری لاگت کے مطابق قیمتوں پر نظرثانی کا نظام بھی تجویز کیا۔
انہوں نے بھدراچلم۔ایلورو سڑک کو قومی شاہراہ بنانے کی بھی درخواست کی۔ یہ سڑک بھدراچلم، دمّاپیٹ، چنتلاپوڈی اور ایلورو کو جوڑتی ہے۔ یوں دور دراز اور قبائلی علاقوں میں آمدورفت، تجارت، صحت اور تعلیم کی سہولت بہتر ہوگی۔
آخر میں وزیر نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کو مشترکہ مفاد کے منصوبوں پر مل کر کام کرنا چاہیے۔ لہٰذا، دونوں ریاستوں کے تعاون سے عوام اور کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
