حیدرآباد ۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں نے تلنگانہ کے خلیجی مزدوروں اور ان کے خاندانوں کی پرانی فکریں تازہ کر دی ہیں۔ یمنی گروپ نے 30 اکتوبر کو سعودی ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات پر چھ حملوں کا دعویٰ کیا۔ اس سے دو دن پہلے وزارت خارجہ نے فروری سے اب تک 22 بھارتیوں کی موت کی تصدیق کی تھی۔ ان میں سے تین اموات سعودی عرب میں ہوئیں۔
یہ خبریں جگتیال، نظام آباد اور پرانے شہر کے گھروں تک پہنچی ہیں۔ وہاں کئی خاندان خلیجی تنخواہوں پر گزارا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ریاست کے پاس جنگ کے دوران واپس آنے والوں کی کوئی تعداد نہیں۔ اندازے کے مطابق تلنگانہ کے تقریباً 15 لاکھ افراد خلیج میں کام کرتے ہیں۔
قومی سطح پر بھارت نے اپریل کے وسط تک 10 لاکھ سے زائد شہریوں کی واپسی میں مدد کی۔ تاہم ان میں تلنگانہ کے کتنے تھے، کوئی نہیں جانتا۔ کئی مزدور کمپنیوں کی بندش اور تنخواہوں کی تاخیر کے باوجود وہیں رکے رہے۔
گھر واپسی سے مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے سروے کے مطابق 72 فیصد مزدوروں نے بیرون ملک جانے کے لیے قرض لیا تھا۔ اس کے علاوہ واپس آنے والی تقریباً 62 فیصد خواتین بے روزگار تھیں۔
سرکاری پالیسی کا انتظار | Telangana Gulf Workers
بی ایم ونود کمار کی صدارت میں این آر آئی مشاورتی کمیٹی اب بھی خلیجی پالیسی تیار کر رہی ہے۔ ریاستی وفد نے اگست میں فلپائن کے نظام کا مطالعہ کیا۔ نائب صدرنشین منڈا بھیم ریڈی خلیجی فلاحی بورڈ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ریاستی حکومت دسمبر 2023 سے خلیج میں انتقال کرنے والوں کے خاندانوں کو 5 لاکھ روپے ادا کر رہی ہے۔ لیکن کارکنوں کے مطابق جگتیال جیسے اضلاع میں ادائیگی سست ہے۔
ترسیلات زر اب تک برقرار ہیں۔ سنہ 2023-24 میں ملک کی ترسیلات میں تلنگانہ کا حصہ تقریباً 8.1 فیصد تھا۔ تاہم 2026 کے اعداد موجود نہیں۔
خلیجی ملازمتیں بھی ختم نہیں ہوئیں، کیونکہ ای مائیگریٹ نظام کھلا ہے۔ اس کے علاوہ ٹام کام نے اس سال 10 ہزار افراد کو بیرون ملک بھیجنے کا ہدف رکھا ہے۔ پھر بھی حوثیوں کے مزید حملے پروازیں روک سکتے ہیں۔ پالیسی آنے تک یہ مزدور اپنے بل بوتے پر ہی گزارا کریں گے۔
