Telangana Farm Crisis
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے کانگریس حکومت پر تلنگانہ کی زراعت کو بحران سے دوچار کرنے کا الزام عائد کیا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 31 ماہ میں 1,000 سے زائد کسانوں نے خودکشی کی۔
بی آر ایس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت فصلوں کے نقصان کا معاوضہ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ پارٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ فصلوں کی خریداری سے متعلق واضح ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔
کسانوں کی فلاح پر الزامات | Telangana Farm Crisis
بی آر ایس کے مطابق کانگریس حکومت کے دور میں کسانوں کی فلاح کے ₹28,000 کروڑ مالیت کے منصوبے کمزور ہو گئے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ زرعی اراضی کی قیمتوں میں کمی سے کسانوں کا اعتماد متاثر ہوا۔
مزید برآں بی آر ایس نے کہا کہ بڑھتے ہوئے قرضوں اور ناکافی مالی تعاون نے کسانوں کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔ پارٹی کے مطابق اس صورت حال نے زرعی شعبے کو مزید مشکلات سے دوچار کیا۔
موجودہ اور سابق حکومت کا موازنہ | Telangana Farm Crisis
بی آر ایس نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے رواں سال سے کسان بیمہ اسکیم بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
پارٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد حاصل ہونے والی زرعی ترقی کو موجودہ حکومت نے نقصان پہنچایا۔ چنانچہ بی آر ایس نے اپنی سابقہ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری معاونت، آبپاشی، بلا تعطل بجلی، معیاری بیج اور کھاد نے زرعی شعبے کو مضبوط بنایا تھا۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک کانگریس حکومت نے ان الزامات پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر جاری بی آر ایس کے بیان میں کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
🚨 కాంగ్రెస్ పాలనలో అన్నదాతల మృత్యుఘోష 🆘
👨🏻🌾 31 నెలల్లో 1000 మందికిపైగా ఆత్మహత్య 📈⛔ పదేండ్లలో కుదుటపడిన తెలంగాణ సాగుపై చావుదెబ్బ కొట్టిన కాంగ్రెస్
📣 పంటనష్ట పరిహారం ఇయ్యలేదు.. పంట కొనుగోలు చేసే దిక్కులేదు
⚠️ రెండున్నరేండ్లలో 28 వేల కోట్ల రైతుభరోసా ఎగవేసిన కాంగ్రెస్… pic.twitter.com/KVVzFXdSet
— BRS Party (@BRSparty) July 21, 2026
