چیف جسٹس کا ٹی ڈی سیٹ پر زور | TDSAT Resolution
حیدرآباد:۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ نے ٹیلی کام، نشریات، ہوائی اڈہ ٹیرف اور سائبر تنازعات کے بروقت فیصلوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں خصوصی مہارت ناگزیر ہے۔
انہوں نے یہ بات ان شعبوں میں تنازعات کے حل سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مزید برآں، انہوں نے خصوصی اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی نمایاں کیا۔
چیف جسٹس نے ٹیلی کام ڈسپیوٹس سیٹلمنٹ اینڈ اپیلیٹ ٹربیونل کا خصوصی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ پیچیدہ ریگولیٹری تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بروقت فیصلے اور خصوصی مہارت کی ضرورت | TDSAT Resolution
چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ نے کہا کہ ایسے مقدمات میں تکنیکی مہارت ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری خودمختاری اور عدالتی جوابدہی کے درمیان توازن پر بھی زور دیا۔
مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ فیصلوں میں تاخیر سے ریگولیٹری مقاصد متاثر ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا، اس سے کاروباری اداروں اور صارفین دونوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیچیدہ تکنیکی تنازعات کے لیے خصوصی نوعیت کی عدالتی مہارت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یوں، انصاف کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
سائبر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر اظہار خیال | TDSAT Resolution
چیف جسٹس نے سائبر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی عدالتی کارروائی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت انسانی عدالتی سوچ کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اس کے علاوہ، عدالتی جوابدہی اور انسانی نگرانی ہمیشہ ضروری رہیں گی۔
انہوں نے ثالثی اور باہمی رضامندی سے تصفیے کی بھی حمایت کی۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایسے طریقے مقدمات کے جلد حل میں مدد دیتے ہیں۔
ٹی ڈی سیٹ کے اختیارات اور قانونی دائرہ | TDSAT Resolution
ٹی ڈی سیٹ کے چیئرمین جسٹس ڈی این پٹیل نے موجودہ قانونی نظام سے متعلق آگاہی بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹرز، پالیسی سازوں اور وکلا کو دستیاب قانونی ذرائع سے مکمل واقفیت ہونی چاہیے۔
اسی دوران، انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت سائبر معاملات کے قانونی دائرہ اختیار کی بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ نامزد افسران ₹5 کروڑ تک کے سائبر ہرجانے کے دعووں کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
مزید برآں، ایسے معاملات میں ٹی ڈی سیٹ اپیلیٹ فورم کے طور پر کام کرتا ہے۔ تاہم، ₹5 کروڑ سے زیادہ مالیت کے دعوے متعلقہ دیوانی عدالتوں میں زیر سماعت آتے ہیں۔
بڑھتے ہوئے تکنیکی تنازعات پر توجہ | TDSAT Resolution
سیمینار میں ریگولیٹری شعبوں میں بڑھتے ہوئے پیچیدہ تنازعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مزید برآں، مقررین نے بروقت اور معیاری فیصلوں کی اہمیت پر اتفاق کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ خصوصی نوعیت کی عدالتی کارروائی کو مؤثر اور بروقت رہنا چاہیے۔ لہٰذا، جدید ٹیکنالوجی کو صرف معاونت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
تقریب میں تلنگانہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایس سریندر ریڈی بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ، ایڈووکیٹ جنرل اے سدرشن ریڈی اور ہائی کورٹ کے جج جسٹس پی سیم کوشی نے بھی شرکت کی۔
