سنگاریڈی میں نرس سریکھا کی موت | Surekha Case
حیدرآباد:۔ سنگاریڈی میں 25 سالہ نرس سریکھا کی مبینہ خودکشی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مزید برآں، حکام اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سریکھا وقارآباد ضلع کے بنٹاورم منڈل کی رہائشی تھی۔ وہ ایک نجی اسپتال میں نرس کے طور پر کام کرتی تھی۔ اس کے علاوہ، پولیس کے مطابق اس کی ایک نوجوان سے انسٹاگرام کے ذریعے دوستی ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق سریکھا نے جنوری میں اپنے والدین کو اس تعلق کے بارے میں بتایا تھا۔ تاہم، والدین نے اس رشتے کی حمایت نہیں کی۔ اسی دوران، خاندان میں اختلافات پیدا ہوگئے۔
پولیس کے مطابق والدین کی موت کے مقدمے کی تحقیقات کے دوران سریکھا کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں، اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ بعد میں اسے ضمانت پر رہائی مل گئی۔
ضمانت کے بعد نئی ملازمت اختیار کی | Surekha Case
ضمانت پر رہائی کے بعد سریکھا اپنے آبائی گاؤں واپس نہیں گئی۔ اس نے سنگاریڈی کے ایک ہاسٹل میں نرس کے طور پر کام شروع کیا۔ مزید برآں، وہ وہیں مقیم تھی۔
ذرائع کے مطابق رہائی کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔ پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ لہٰذا، حکام تمام دستیاب شواہد جمع کر رہے ہیں۔
پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے | Surekha Case
پولیس کے مطابق سریکھا کی موت کے حالات کی تفصیلی جانچ جاری ہے۔ حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ واقعے سے پہلے کیا پیش آیا تھا۔ چنانچہ، مختلف شواہد کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سریکھا نے مبینہ طور پر وہی نشہ آور مادہ استعمال کیا جو والدین کی موت کے مقدمے میں زیر تفتیش تھا۔ تاہم، پولیس نے اس معاملے کی حتمی تصدیق نہیں کی ہے۔ اسی دوران، فارنسک اور دیگر رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ وقارآباد اور سنگاریڈی دونوں اضلاع سے جڑا ہوا ہے۔ پولیس نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، قانونی کارروائی بھی تحقیقات کے نتائج کے مطابق آگے بڑھے گی۔
