کانگریس قائد ولی اللہ سمیر نے طلبہ حمایت پر وزیراعلیٰ کی تعریف کی | Student Justice
حیدرآباد:۔ حیدرآباد لوک سبھا کانگریس کے انچارج محمد ولی اللہ سمیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک کے معاملے پر ذاتی طور پر احتجاج کی قیادت کر کے قومی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی متاثرہ طلبہ کے حق میں سڑکوں پر آنے والے ملک کے واحد وزیر اعلیٰ ہیں۔ تاہم انہوں نے طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کو آئینی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا۔
محمد ولی اللہ سمیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے صرف بیانات دینے پر اکتفا نہیں کیا۔ مزید برآں انہوں نے احتجاجی پروگراموں میں شرکت کی اور مرکزی حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کی قیادت سے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کو اعتماد ملا ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کو یقین ہوا کہ ان کی آواز اعلیٰ سطح پر سنی جا رہی ہے۔
نیٹ معاملے پر سخت مؤقف | Student Justice
سمیر نے یاد دلایا کہ پیپر لیک کے الزامات سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ نے فوری ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے امتحان کی منسوخی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی نے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا۔ اس کے علاوہ مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے لیے جامع اصلاحات کی بھی وکالت کی۔
محمد ولی اللہ سمیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے نئی دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کی بھی مذمت کی۔ لہٰذا انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے طلبہ کے مطالبات پر توجہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ یوں گرفتاریوں یا پولیس کارروائی سے اس حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔
نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر زور | Student Justice
سمیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی طلبہ سے وابستگی صرف نیٹ معاملے تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختصر مدت میں مختلف محکموں میں 70,000 سے زائد آسامیاں پُر کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرکاری اور نجی شعبوں میں روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ مزید برآں بھرتیوں کے نظام میں شفافیت بھی بہتر بنائی گئی ہے۔
سمیر نے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات لڑنے کی کم از کم عمر 25 سال سے کم کر کے 21 سال کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اسے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی سمت ایک ترقی پسند قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اگست کے پہلے ہفتے میں اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرے گی۔ چنانچہ اس اجلاس میں اس تجویز کے حق میں قرارداد منظور کی جائے گی۔
سمیر نے وزیر اعلیٰ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب 21 سال کا نوجوان آئی اے ایس افسر بن سکتا ہے یا بلدیاتی انتخابات لڑ سکتا ہے تو اسے اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات لڑنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلبہ اور اپوزیشن کے مسلسل دباؤ کا نتیجہ ہے۔ تاہم انہوں نے مزید اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سمیر نے پیپر لیک روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی، پرامن طلبہ مظاہرین پر درج مقدمات واپس لینے اور قومی امتحانات پر عوامی اعتماد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
