اسپیکر ریمارکس کیس میں ہائی کورٹ کے نوٹس | Speaker Remarks Case
حیدرآباد:۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بی آر ایس کے 2 ایم ایل سیز کو نوٹس جاری کیے۔ ان میں ٹیٹا مدھو اور بی نوین کمار ریڈی شامل ہیں۔ معاملہ اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار سے متعلق مبینہ توہین آمیز ریمارکس کا ہے۔
ہائی کورٹ نے پولیس کی درخواست پر یہ کارروائی کی۔ پولیس نے نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ اس حکم میں دونوں ایم ایل سیز کو گرفتاری سے تحفظ دیا گیا تھا۔
پولیس نے ہائی کورٹ سے نچلی عدالت کا حکم ختم کرنے کی درخواست کی۔ اس لیے عدالت کے سامنے معاملہ دونوں ارکان کو ملنے والے تحفظ کا ہے۔ تاہم، پیر کی کارروائی میں الزامات پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
پولیس کی درخواست پر ہائی کورٹ کی کارروائی | Speaker Remarks Case
سرکاری وکیل ناگیشورا راؤ نے پولیس کی جانب سے عدالت میں پیشی دی۔ انہوں نے دونوں ایم ایل سیز پر اسپیکر کے خلاف مبینہ توہین آمیز زبان استعمال کرنے کا الزام بتایا۔ انہوں نے اسپیکر کے آئینی عہدے کی اہمیت بھی عدالت کے سامنے رکھی۔
پولیس نے دونوں ارکان پر ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں سے بدسلوکی کا بھی الزام لگایا۔ یہ معاملہ اسمبلی میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات سے جڑا ہے۔ اس سے قبل پولیس نے دونوں ارکان کو گرفتار کیا تھا۔
نچلی عدالت نے پولیس کی ریمانڈ درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے دونوں ایم ایل سیز کو ذاتی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے ہائی کورٹ سے مزید قانونی راحت ختم کرنے کی درخواست کی۔
ہائی کورٹ نے ٹیٹا مدھو اور نوین کمار ریڈی سے جواب طلب کیا۔ عدالت نے دونوں ارکان کو اپنے جوابات داخل کرنے کی ہدایت دی۔ مزید برآں، عدالت نے اگلی سماعت 23 ستمبر کو مقرر کی۔
الزامات پر حتمی فیصلہ ابھی باقی | Speaker Remarks Case
پراسیکیوشن نے عدالت کے سامنے 2 الگ الزامات رکھے۔ پہلا الزام اسپیکر گڈم پرساد کمار کے خلاف مبینہ توہین آمیز زبان سے متعلق ہے۔ دوسرا الزام ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر مبینہ حملے سے متعلق ہے۔
تاہم، پیر کی سماعت میں عدالت نے ان الزامات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ عدالت نے صرف نوٹس جاری کیے اور دونوں ایم ایل سیز سے جواب طلب کیا۔ یوں پولیس کی درخواست ابھی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
اس معاملے کی اگلی سماعت 23 ستمبر کو ہوگی۔ اسی دوران، دونوں ارکان کو اپنے جوابات عدالت میں داخل کرنے ہوں گے۔ مزید کارروائی کے بعد عدالت پولیس کی درخواست پر غور کرے گی۔
مبینہ ریمارکس کے معاملے میں دونوں ایم ایل سیز پہلے ہی قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، پولیس نے 8 ستمبر کو دونوں کو گرفتار کیا تھا۔ نچلی عدالت نے بعد میں ریمانڈ مسترد کرتے ہوئے انہیں ذاتی ضمانت پر رہا کیا تھا۔
