بوڈاُپل سیکشن 22-اے تنازع پر ہریش راؤ | Section 22A Dispute
حیدرآباد:۔ سابق وزیر و بی آر ایس قائد ٹی ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ حکومت نے بوڈاُپل میں سیکشن 22-اے کا تنازع جان بوجھ کر پیدا کیا۔ مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام کا مقصد جائیداد مالکان سے 30 فیصد کمیشن حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے قانونی طور پر رجسٹرڈ جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا۔ لہٰذا، کئی خاندان شدید پریشانی کا شکار ہو گئے۔
ٹی ہریش راؤ نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی سے وضاحت طلب کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے سوال کیا کہ کئی دہائیوں سے آباد خاندانوں کی جائیدادوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔
تقریباً 1,500 خاندان متاثر ہونے کا دعویٰ | Section 22A Dispute
ٹی ہریش راؤ سے متاثرہ رہائشیوں کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں تروملا میڈوز، لکشمی گناپتی کالونی اور ہیما نگر کالونی کے مکین شامل تھے۔
انہوں نے اپنی مشکلات سابق وزیر کے سامنے پیش کیں۔ مزید برآں، ٹی ہریش راؤ نے متاثرین کو بی آر ایس کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
انہوں نے کہا کہ سروے نمبر 215 اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تقریباً 1,500 خاندان رہتے ہیں۔ ان کے مطابق، کئی خاندان تقریباً 30 سال سے وہاں آباد ہیں۔
ٹی ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ اس عرصے میں جائیدادوں پر کوئی تنازع نہیں تھا۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اچانک ان جائیدادوں کو سیکشن 22-اے کی ممنوعہ فہرست میں شامل کر دیا۔
رجسٹری پر پابندی سے عوام پریشان، الزام | Section 22A Dispute
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ بعض رہائشی جائیداد فروخت کرنے رجسٹری دفتر پہنچے۔ اسی دوران، انہیں معلوم ہوا کہ ان کی جائیداد ممنوعہ فہرست میں شامل ہو چکی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے بعد رجسٹری کا عمل رک گیا۔ لہٰذا، متاثرہ خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔
سابق وزیر نے الزام لگایا کہ قانونی طور پر رجسٹرڈ مکانات کو دباؤ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جائیدادوں کو کلیئر کرنے کے لیے 30 فیصد کمیشن طلب کیا جا رہا ہے۔
بی آر ایس نے احتجاج کی وارننگ دی | Section 22A Dispute
ٹی ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ بعض بے نامی افراد اور ثالث اس عمل میں سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی نوعیت کے الزامات ریاست کے دیگر علاقوں سے بھی سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے حوصلہ نہ ہارنے کی اپیل کی۔ مزید برآں، انہوں نے یقین دلایا کہ بی آر ایس ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
سابق وزیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ کالونیوں کو فوری طور پر سیکشن 22-اے کی ممنوعہ فہرست سے خارج کیا جائے۔ لہٰذا، متاثرہ جائیداد مالکان کو فوری راحت فراہم کی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے پر بی آر ایس بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرے گی۔ ان کے مطابق، کئی دہائیوں سے قانونی طور پر آباد خاندانوں کی جائیدادوں کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
