Revenue Deficit
حیدرآباد:۔ بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر داسوجو سراون نے تلنگانہ کی مالی صورتحال پر کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2026-27 مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ریاست کے مالی معاملات کمزور ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے بجٹ تخمینے حقیقی مالی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔
ڈاکٹر داسوجو سراون نے کہا کہ حکومت نے 2026-27 کے بجٹ میں ₹6,857.76 کروڑ کے ریونیو سرپلس کا تخمینہ پیش کیا تھا۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ جون 2026 تک کی سی اے جی رپورٹ میں ₹12,289.38 کروڑ کا ریونیو خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ریاستی خزانہ ہر ماہ ₹4,000 کروڑ سے زائد خسارے کا سامنا کر رہا ہے۔
سی اے جی رپورٹ پر حکومت سے سوالات | Revenue Deficit
ڈاکٹر داسوجو سراون نے الزام لگایا کہ حکومت نے اپریل سے جون کے دوران ₹58,458.71 کروڑ کی سالانہ خالص قرض لینے کی حد میں سے ₹21,919.23 کروڑ استعمال کر لیے۔ ان کے مطابق یہ مجموعی حد کا 37.5 فیصد بنتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کا بنیادی مالی خسارہ ₹14,141.05 کروڑ تک پہنچ گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نئے اثاثے بنانے کے بجائے نئے قرض سے پرانے قرض ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرز عمل ریاست کی مالی صحت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ لہٰذا حکومت کو اپنی مالی حکمت عملی واضح کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر داسوجو سراون نے سی اے جی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی ریونیو وصولیاں سالانہ ہدف کے صرف 17 فیصد تک پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق ٹیکس ریونیو 21 فیصد رہا۔ جی ایس ٹی وصولیاں 22.72 فیصد رہیں۔ اسٹامپس اور رجسٹریشن سے حاصل ہونے والی آمدنی 23.08 فیصد رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیلز ٹیکس وصولیاں 24 فیصد تک پہنچیں۔ ایکسائز ریونیو 18.23 فیصد رہا۔ نان ٹیکس ریونیو صرف 7.55 فیصد حاصل ہوا۔ اسی دوران مرکزی گرانٹس سالانہ ہدف کے صرف 5.71 فیصد تک محدود رہیں۔
فلاحی اسکیموں اور مالی شفافیت کا مطالبہ | Revenue Deficit
ڈاکٹر داسوجو سراون نے الزام لگایا کہ رجسٹریشن آمدنی میں سست روی رئیل اسٹیٹ شعبے کی کمزوری ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی کے مبینہ رخ موڑنے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریت کی آمدنی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے مرکزی گرانٹس کے حصول میں حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔
بی آر ایس رہنما نے دعویٰ کیا کہ کئی فلاحی وعدے اب بھی پورے نہیں ہوئے۔ ان میں رعیتو بھروسہ، رعیتو بیمہ، رعیتو بونس، کے سی آر کٹ، بڑھی ہوئی پنشن، بے روزگاری الاؤنس اور ملازمتوں سے متعلق وعدے شامل ہیں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اخراجات بھی وعدوں کے مطابق نہیں ہوئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اور آروگیہ شری کی واجبات بھی ابھی تک زیر التوا ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کا واضح منصوبہ پیش کرے۔
ڈاکٹر داسوجو سراون نے تشہیری مہمات پر اخراجات روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے ریاست کی مجموعی مالی صورتحال، شراب کی آمدنی، ریت کی آمدنی اور دیگر مالی معاملات پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
రేవంత్ రెడ్డి సొల్లు వాగుడు, బూతు పురాణాలనే ఆయుధంగా మార్చుకున్నాడు.
తొలి 90 రోజుల ఆర్థిక సంవత్సర పరిపాలనలో రూ.12 వేల కోట్ల పైచిలుకు రెవిన్యూ లోటు వచ్చిందని కాగ్ రిపోర్ట్ స్పష్టం చేసింది.
రేవంత్ రెడ్డికి పరిపాలన చేతకాక తెలంగాణ ఆర్ధికంగా దివాళా తీస్తోంది.
సంపద సృష్టించలేని… pic.twitter.com/LP00wuVruU
— BRS Party (@BRSparty) July 20, 2026
