تلنگانہ کی 78 قیدیوں کی ایس ایس سی کامیابی | Prison Education
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کی جیلوں کے 78 قیدیوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کے تحت ایس ایس سی امتحان کامیابی سے پاس کر لیا۔ یہ ریاستی جیلوں کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی کامیابی ہے۔ اس کامیابی نے اصلاحی نظام میں تعلیم کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا۔ محکمہ جیلات نے اسے بحالی اور خود اعتمادی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
نتائج کے اعلان کے بعد محکمہ جیلات و اصلاحی خدمات کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سومیہ مشرا نے تمام 78 کامیاب قیدیوں کے لیے خصوصی رعایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے قیدیوں کے نظم و ضبط، مسلسل محنت اور خود کو بہتر بنانے کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم زندگی میں مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ کامیابی محکمہ جیلات اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد ممکن ہوئی۔ اس معاہدے نے سزا کاٹنے والے قیدیوں کو ثانوی تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یوں قیدیوں نے تعلیمی سفر دوبارہ شروع کیا اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کی۔
پروگرام میں مجموعی طور پر 108 قیدیوں نے داخلہ لیا۔ ان میں سینٹرل جیل چیرلاپلی، سینٹرل جیل نظام آباد اور اسپیشل جیل فار ویمن حیدرآباد کے قیدی شامل تھے۔ تمام شرکا نے باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
تعلیمی تیاری اور نمایاں نتائج | Prison Education
قیدیوں نے تقریباً 1 سال تک مسلسل امتحان کی تیاری کی۔ انہوں نے روزانہ کلاسوں میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ماک ٹیسٹ اور پری بورڈ امتحانات بھی دیے۔ اس منظم تیاری نے ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
سرکاری اور نجی اساتذہ نے پوری مدت کے دوران قیدیوں کی رہنمائی کی۔ مزید برآں جیل حکام اور تعلیمی رابطہ کاروں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے قیدیوں کو تعلیم جاری رکھنے کی مسلسل ترغیب دی۔
سینٹرل جیل چیرلاپلی کے 56 قیدی امتحان میں کامیاب ہوئے۔ سینٹرل جیل نظام آباد کے 15 قیدیوں نے بھی کامیابی حاصل کی۔ اسپیشل جیل فار ویمن حیدرآباد کی 7 قیدیوں نے بھی ایس ایس سی امتحان پاس کیا۔ یہ نتائج تینوں اداروں کی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
محکمہ جیلات نے کہا کہ یہ نتائج بحالی، خود اعتمادی اور سماجی انضمام میں تعلیم کے مثبت کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم محکمہ نے اس کامیابی کا سہرا قیدیوں کے عزم، اساتذہ کی محنت اور جیل عملے کے مسلسل تعاون کو بھی دیا۔
اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع | Prison Education
ڈاکٹر سومیہ مشرا نے تمام کامیاب امیدواروں کو مبارک باد دی۔ بعد ازاں انہوں نے تمام 78 قیدیوں کے لیے ڈائریکٹر جنرل کی خصوصی رعایت کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں کیا گیا۔
محکمہ اب کامیاب قیدیوں کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کے سینئر سیکنڈری یعنی 10+2 پروگرام میں داخلے کی ترغیب دے گا۔ اس کے بعد وہ سینٹرل جیل چیرلاپلی میں قائم ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کے اسٹڈی سینٹر کے ذریعے گریجویشن بھی کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ کامیاب قیدی سینٹرل جیل چیرلاپلی میں قائم آئی ٹی آئی میں بھی داخلہ لے سکیں گے۔ وہاں مختلف تکنیکی کورسز دستیاب ہیں۔ یہ تربیت مستقبل میں روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
محکمہ جیلات نے کہا کہ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ تعلیم قیدیوں میں اعتماد بحال کر سکتی ہے۔ چنانچہ تعلیم انہیں خود انحصاری کی جانب بھی لے جا سکتی ہے۔ اسی دوران پیشہ ورانہ تربیت ان کی عملی مہارتوں میں اضافہ کرے گی اور معاشرے میں دوبارہ باوقار زندگی گزارنے کے امکانات مضبوط کرے گی۔
محکمہ نے واضح کیا کہ آئندہ بھی قیدیوں کو اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت کی جانب راغب کیا جائے گا۔ اس کا مقصد اصلاح، بحالی اور باعزت مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔ یہی اقدام تلنگانہ کی اصلاحی پالیسی میں تعلیم اور ہنر کی اہمیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
