منچریال رشوت کیس میں پنچایت سیکریٹری گرفتار | Panchayat Bribery
حیدرآباد:۔ اینٹی کرپشن بیورو نے منچریال ضلع میں ایک پنچایت سیکریٹری کو مبینہ رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق ملزمہ نے گھر کی تعمیر کی اجازت اور مکان نمبر جاری کرنے کے لیے رقم طلب کی تھی۔ مزید برآں، کارروائی ثبوت جمع ہونے کے بعد انجام دی گئی۔
گرفتار ملزمہ کی شناخت جے ورالکشمی کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ منچریال ضلع کے جنارم منڈل کے لنگائی پلی گاؤں میں پنچایت سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اسی دوران اے سی بی نے شکایت موصول ہونے پر ٹریپ کارروائی شروع کی۔
اے سی بی کے مطابق جے ورالکشمی نے ابتدا میں ₹20,000 رشوت طلب کی تھی۔ بعد ازاں فریقین کے درمیان بات چیت ہوئی۔ یوں مبینہ طور پر رقم ₹13,000 پر طے پائی۔
ملزمہ نے شکایت کنندہ کو نقد رقم دینے سے منع کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے فون پے کے ذریعے رقم منتقل کرنے کی ہدایت دی۔ حکام کے مطابق شکایت کنندہ نے ہدایت پر عمل کیا۔
فون پے کے ذریعے رقم منتقل کرنے کا الزام | Panchayat Bribery
اے سی بی کے مطابق ₹13,000 دوسری پنچایت سیکریٹری لاونیا کے فون پے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔ تفتیشی حکام نے رقم طلب کرنے اور ادائیگی کی ہدایات کو بطور ثبوت ریکارڈ کیا۔ مزید برآں، کارروائی کے دوران تمام شواہد محفوظ کیے گئے۔
حکام نے رشوت کی مبینہ منتقلی کی تصدیق کے بعد جے ورالکشمی کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں انہیں کریم نگر میں ایس پی ای اور اے سی بی مقدمات کے خصوصی جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
تحقیقات جاری، مزید پہلوؤں کا جائزہ | Panchayat Bribery
اے سی بی نے بتایا کہ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ادارے نے شکایت کنندہ کی شناخت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی۔ لہٰذا تفتیش مکمل ہونے تک مزید معلومات جاری نہیں کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق مبینہ رشوت گھر کی تعمیر کی اجازت اور مکان نمبر جاری کرنے سے متعلق تھی۔ اس کے علاوہ تفتیشی ٹیم رقم کی منتقلی اور دیگر متعلقہ افراد کے کردار کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
اے سی بی نے کہا کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں کی قانونی طریقے سے تحقیقات کی جائیں گی۔ یوں دستیاب شواہد کی بنیاد پر آئندہ کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
