Movement Recognition
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت کی تحریکی شناخت کمیٹی نے کاکتیہ یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے طلبہ رہنماؤں سے مشاورت کی۔ اجلاس تلنگانہ سیکریٹریٹ کے سامنے واقع امرا ویرولا جیوتی کے احاطے میں منعقد ہوا۔
وزیر ٹرانسپورٹ و بی سی ویلفیئر پونم پربھاکر نے اجلاس میں شرکت کی۔ کمیٹی کے رکن پروفیسر ایم کودنڈارام بھی موجود تھے۔ اڈنکی دیاکر، ایس رامولو نائک اور موتھے شوبھن ریڈی نے بھی اجلاس میں حصہ لیا۔ کمیٹی نے سابق طلبہ رہنماؤں، تحریکی کارکنوں اور شہدا کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔
طلبہ کے مطالبات | Movement Recognition
طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ صرف شناختی کارڈ جاری کرنا کافی نہیں ہوگا۔ انہوں نے تحریکی کارکنوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
مزید برآں، انہوں نے اعلیٰ تعلیم، معیاری طبی سہولیات، رہائش، پنشن اور مالی تحفظ دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے تحریک میں شریک افراد کے لیے مستقل سماجی تحفظ اور سرکاری شناخت کا بھی مطالبہ کیا۔
حکومت کا مؤقف | Movement Recognition
دوسری جانب وزیر پونم پربھاکر نے کہا کہ کمیٹی ہر تجویز کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مناسب سفارشات رپورٹ میں شامل کی جائیں گی۔ بعد ازاں یہ رپورٹ وزیر اعلیٰ اے ریونتھ ریڈی کو پیش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کاکتیہ یونیورسٹی اور عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے تلنگانہ تحریک میں تاریخی کردار ادا کیا۔ لہٰذا حکومت صرف شناخت فراہم کرنے تک محدود نہیں رہے گی۔ چنانچہ تحریکی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو طویل مدتی سماجی اور معاشی تحفظ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
اسی دوران کمیٹی نے پیر کے روز عثمانیہ یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ بعد ازاں کمیٹی پالمورو، تلنگانہ، ساتواہنا، مہاتما گاندھی اور دیگر جامعات کے طلبہ نمائندوں سے بھی مشاورت کرے گی۔
