بی آر ایس کی فرضی اسمبلی میں کانگریس پر طنز| Mock Assembly Session
حیدرآباد:۔ بی آر ایس نے تلنگانہ بھون میں فرضی اسمبلی کا انعقاد کیا۔ سابق وزیر تلاسانی سرینواس یادو نے اس میں چیف منسٹر کا کردار ادا کیا۔ ظہیرآباد کے رکن اسمبلی مانک راو نے اسپیکر کا کردار ادا کیا۔
بی آر ایس ارکان نے فرضی ایوان میں مختلف عوامی مسائل اٹھائے۔ ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے پلے کارڈز بھی دکھائے۔ اسی دوران، کارروائی میں کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
انتخابی ضمانتوں پر کانگریس کو طنزیہ جواب | Mock Assembly Session
چیف منسٹر کے کردار میں تلاسانی نے کانگریس پر طنزیہ حملہ کیا۔ انہوں نے 100 دن میں ضمانتیں نافذ کرنے کے وعدے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ اس وعدے میں کون سے 100 دن شامل تھے۔
تلاسانی نے اجلاس میں کہا، ’’ہم نے 100 دن میں وعدے پورے کرنے کی بات کی۔ لیکن کیا ہم نے یہ بتایا تھا کہ کون سے 100 دن؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی 25 سال اقتدار میں رہے گی۔ ان کے مطابق، وعدے کسی وقت نافذ کیے جائیں گے۔
مزید برآں، تلاسانی نے حکومت اور اپنی پارٹی کے مسائل پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ ایوان میں زیر بحث موضوع کے علاوہ کچھ بھی زیر بحث لائیں۔ اس بیان پر فرضی ایوان میں ہنسی بھی گونجی۔
کالیشورم منصوبے پر بھی طنزیہ تبصرہ | Mock Assembly Session
تلاسانی نے کہا کہ انہیں کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، ایک مسئلہ دہلی کے ساتھ ہے اور دوسرا پارٹی کے اندر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے ساتھ بھی انہیں سکون نہیں ملتا۔
سابق وزیر نے کالیشورم منصوبے پر بھی طنزیہ تبصرہ کیا۔ انہوں نے مذاقاً کہا کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے یہ منصوبہ بنایا تھا۔ کالیشورم دنیا کے بڑے لفٹ اریگیشن منصوبوں میں شامل ہے۔
دوسری جانب، تلاسانی نے کانگریس پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے انتخابات میں 100 دن میں ضمانتیں نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ، بی آر ایس نے فرضی اسمبلی کے ذریعے حکومت کو نشانہ بنایا۔
بی آر ایس نے اس پروگرام میں کئی عوامی مسائل اجاگر کیے۔ پارٹی نے کانگریس حکومت کی انتخابی ضمانتوں پر بھی سوال اٹھائے۔ یوں، فرضی اسمبلی حکومت کی پالیسیوں پر سیاسی تنقید کا ذریعہ بنی۔
