حیدرآباد میٹرو فیز 2 میں کنسلٹنٹس کی تقرری | Metro Phase
حیدرآباد:۔ حیدرآباد میٹرو فیز 2 منصوبہ ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ حکومت تلنگانہ اور ایچ ایم آر ایل نے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مزید برآں، مختلف سرکاری محکموں سے ضروری نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
حال ہی میں حکومت نے متعلقہ محکموں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں منصوبے کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ، ایچ ایم آر ایل نے جنرل کنسلٹنٹس کی تقرری کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
19 اگست کو پری-بڈ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 12 کمپنیوں نے شرکت کی۔ یوں، منصوبے میں نجی شعبے کی دلچسپی بھی واضح ہوئی۔
حکومت نے حیدرآباد میٹرو فیز 2 کے تحت 7 نئے کوریڈورز تجویز کیے ہیں۔ ان کی مجموعی لمبائی 122.9 کلومیٹر ہوگی۔ منصوبے کی تخمینی لاگت 38,595 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
چار کوریڈورز ایک کنسلٹنٹ کے سپرد | Metro Phase
ایچ ایم آر ایل پہلے جنرل کنسلٹنٹ کو 4 کوریڈورز کی نگرانی سونپے گا۔ ان میں ناگول-شمش آباد ایئرپورٹ، رائی درگ-کوکاپیٹ، ایم جی بی ایس-چندرائن گٹہ اور ایل بی نگر-حیات نگر شامل ہیں۔ لہٰذا، ایک ہی ادارہ ان منصوبوں کی نگرانی کرے گا۔
ناگول-شمش آباد ایئرپورٹ کوریڈور کی لمبائی 36.8 کلومیٹر ہوگی۔ رائی درگ-کوکاپیٹ کوریڈور 11.6 کلومیٹر طویل ہوگا۔ ایم جی بی ایس-چندرائن گٹہ کوریڈور 7.5 کلومیٹر پر مشتمل ہوگا۔
ایل بی نگر-حیات نگر کوریڈور کی لمبائی 7.1 کلومیٹر ہوگی۔ ایچ ایم آر ایل نے ان چاروں کوریڈورز کو ایک ہی جنرل کنسلٹنٹ کے تحت رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس طریقے سے نگرانی مزید مؤثر ہونے کی توقع ہے۔
معیار کو ترجیح دے کر انتخاب ہوگا | Metro Phase
دوسرا جنرل کنسلٹنٹ 3 کوریڈورز کی نگرانی کرے گا۔ ان میں میاپور-پٹن چیرو، جے بی ایس-میڈچل اور جے بی ایس-شامیرپیٹ شامل ہیں۔ بعد ازاں، ان منصوبوں پر بھی مرحلہ وار کام آگے بڑھے گا۔
میاپور-پٹن چیرو کوریڈور 13.4 کلومیٹر طویل ہوگا۔ جے بی ایس-میڈچل کوریڈور 24.5 کلومیٹر پر محیط ہوگا۔ جے بی ایس-شامیرپیٹ کوریڈور کی لمبائی 22 کلومیٹر ہوگی۔
ایچ ایم آر ایل نے کنسلٹنٹس کے انتخاب کے لیے کوالٹی اینڈ کاسٹ بیسڈ سلیکشن طریقہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجموعی جانچ 100 نمبروں پر ہوگی۔ مزید برآں، 70 نمبر کمپنیوں کے سابقہ منصوبوں اور کارکردگی کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔
حکام تعمیراتی معیار کا بھی جائزہ لیں گے۔ منصوبوں کی تکمیل کا وقت بھی جانچا جائے گا۔ اسی دوران، 30 نمبر ماہرین کی اہلیت اور تجربے کی بنیاد پر مختص کیے جائیں گے۔
مالی انتظامات کو بھی تقویت ملی | Metro Phase
ایچ ایم آر ایل نے انتخابی عمل میں معیار کو اولین ترجیح دی ہے۔ ادارہ جلد از جلد جنرل کنسلٹنٹس کی تقرری مکمل کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ، منصوبے کی رفتار بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ایم جی بی ایس-چندرائن گٹہ کوریڈور کے لیے الگ ٹینڈر جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، صرف ایک بولی موصول ہونے پر وہ عمل منسوخ کر دیا گیا۔ اب چار کوریڈورز کو ایک کنسلٹنٹ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب منصوبے کے مالی انتظامات میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ انڈین ریلوے فنانس کارپوریشن لمیٹڈ نے 25 مئی کو دہلی میں 13,600 کروڑ روپے تک ری فنانسنگ کے لیے معاہدہ کیا تھا۔
اس معاہدے کی مدت 25 اگست کو ختم ہونا تھی۔ اب آئی آر ایف سی نے معاہدے کی تجدید کر دی ہے۔ یوں، ری فنانسنگ کے عمل کو تسلسل حاصل ہوگیا ہے۔
یہ سہولت حیدرآباد میٹرو کے پہلے مرحلے سے متعلق ری فنانسنگ ضروریات کے لیے دستیاب رہے گی۔ پہلے معاہدے پر آئی آر ایف سی کے سی ایم ڈی اور سی ای او منوج کمار دوبے اور سابق تلنگانہ چیف سیکریٹری کے. رام کرشنا راؤ نے دستخط کیے تھے۔ تجدید کے بعد مالی تعاون کا سلسلہ برقرار رہے گا۔
