میدک میں کار کی ٹکر سے کسان جاں بحق | Medak Farmer Accident
حیدرآباد:۔ میدک ضلع میں ایک نامعلوم کار کی ٹکر سے 65 سالہ کسان جاں بحق ہوگیا۔ متوفی کی شناخت تروپتی کشن کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ حویلی گھن پور منڈل کے اورنگ آباد کا رہائشی تھا۔ حادثے کے بعد کار ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔
کشن اپنے کھیت کی طرف جارہا تھا، جب یہ حادثہ پیش آیا۔ اس نے کھیت میں دھان کی فصل کی کٹائی مکمل کرلی تھی۔ اب وہ پیداوار فروخت کرنے کی تیاری کررہا تھا۔ تاہم، گاؤں کے آس پاس سرکاری آئی کے پی دھان خریداری مرکز موجود نہیں تھا۔ اس لیے اسے نجی تاجروں اور دلالوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔
3 نومبر کو رات 10:45 بجے کشن گھر سے کھیت کے لیے نکلا۔ اورنگ آباد گیٹ کے قریب پنچ مکھی ہنومان مندر کے پاس وہ سڑک پار کررہا تھا۔ اسی دوران پیچھے سے آنے والی تیز رفتار نامعلوم کار نے اسے ٹکر مار دی۔
مقامی افراد نے شدید زخمی کسان کو ایمبولینس کے ذریعے سرکاری اسپتال پہنچایا۔ تاہم، ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود اس کی جان نہیں بچائی جاسکی۔
سرکاری اسپتال کی سہولتوں پر اہل خانہ کے الزامات | Medak Farmer Accident
اہل خانہ اور مقامی افراد نے سرکاری اسپتال کی سہولتوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اسپتال میں ڈیوٹی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ مزید برآں، ان کے مطابق وہاں بجلی کی بنیادی سہولت بھی دستیاب نہیں تھی۔ اس وجہ سے طبی خدمات کی فراہمی میں مشکلات پیش آئیں۔
اہل خانہ کو خدشہ ہے کہ بروقت علاج ملتا تو کشن کی جان بچ سکتی تھی۔ پسماندگان میں اس کی اہلیہ اور 3 بیٹے شامل ہیں۔
خاندان نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے کار کی شناخت کی جائے۔ انہوں نے فرار ڈرائیور کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ دوسری جانب، اہل خانہ نے اعلیٰ حکام سے سرکاری اسپتال کی صورتحال کی تحقیقات کی اپیل کی ہے۔ وہ ڈیوٹی ڈاکٹر کی عدم موجودگی اور بجلی کی کمی کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں۔
متاثرہ خاندان نے حکومت سے مالی معاوضہ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اورنگ آباد، حویلی اور آس پاس کے دیہات کے کسانوں کے لیے آئی کے پی دھان خریداری مرکز قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری خریداری مرکز نہ ہونے سے کسانوں کو نجی تاجروں اور دلالوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
