اراضی مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی | Land Issues Panel
حیدرآباد:۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں اراضی مسائل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اعلان کیا۔ یہ کمیٹی جائیداد سے متعلق مسائل کا جائزہ لے کر حل پیش کرے گی۔
ریونت ریڈی نے تلنگانہ اسمبلی میں اراضی تنازعات پر تفصیلی بیان دیا۔ انہوں نے دفعہ 22-A کے تحت ممنوعہ جائیدادوں پر بھی بات کی۔
چیف منسٹر نے دھارنی پورٹل سے متعلق خامیوں کی بھی نشاندہی کی۔ مزید برآں، انہوں نے اندراما ہاؤسنگ مستحقین اور شہری علاقوں کے مسائل پر فیصلے بتائے۔
اندراما ہاؤسنگ مستحقین کے لیے اہم فیصلہ | Land Issues Panel
ریونت ریڈی نے سرکاری اراضی پر بنے اندراما مکانات کے مستحقین کو راحت دینے کا اعلان کیا۔ حکومت نے ان مستحقین کو 5 سالہ لاک اِن مدت مکمل کرنے کی اجازت دی ہے۔
اس مدت کے بعد مستحقین اپنی جائیداد فروخت کر سکیں گے۔ تاہم، انہیں مقررہ رجسٹریشن فیس اور متعلقہ نان ایگریکلچرل لینڈ اسیسمنٹ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ ادائیگی کے بعد رجسٹریشن کا عمل فوری مکمل کیا جائے گا۔ یوں حکومت نے ان مستحقین کے لیے جائیداد سے متعلق ایک اہم رکاوٹ دور کی ہے۔
چیف منسٹر نے دفعہ 22-A کے تحت زمینیں ممنوعہ فہرست میں شامل ہونے کی وجہ بھی بتائی۔ ان کے مطابق حکومت نے 2025 میں ضلع کلکٹروں سے موصول فہرستوں کی بنیاد پر یہ اقدام کیا۔
حکومت نے یہ فہرستیں ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد حاصل کی تھیں۔ تاہم، بعض سروے نمبروں میں سرکاری اور نجی زمین ایک ساتھ شامل تھی۔
چنانچہ رجسٹرار اور محکمہ مال کے افسران کو ایسی جائیدادوں پر مشکلات کا سامنا ہوا۔ اس صورتحال نے زمین کی ملکیت سے متعلق کئی پیچیدگیاں پیدا کیں۔
ممنوعہ اراضی میں نمایاں کمی کا دعویٰ | Land Issues Panel
ریونت ریڈی نے دھارنی پورٹل کے آغاز کے بعد ممنوعہ اراضی کی صورتحال بھی بیان کی۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر 7 لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی فہرست میں شامل تھی۔
بعد ازاں حکومت کے اقدامات سے ممنوعہ اراضی کے رقبے میں نمایاں کمی ہوئی۔ چیف منسٹر کے مطابق 2026 تک یہ رقبہ 3 لاکھ ایکڑ سے کم رہ گیا۔
مزید برآں، نئی کمیٹی حکومت کی اراضی سے متعلق شکایات دور کرنے کی کوشش کا حصہ ہوگی۔ کمیٹی مختلف زمینوں اور جائیدادوں سے متعلق مسائل کا جائزہ لے گی۔
اسی دوران ریونت ریڈی نے اسمبلی میں کئی اہم فیصلوں کی تفصیلات پیش کیں۔ ان میں ممنوعہ جائیدادیں، دھارنی سے متعلق مسائل اور ہاؤسنگ مستحقین شامل ہیں۔
لہٰذا، مجوزہ کمیٹی تلنگانہ میں اراضی سے متعلق شکایات کے حل پر توجہ دے گی۔ حکومت نے اس عمل کے ذریعے مختلف زمینی مسائل کو منظم انداز میں حل کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
