کے سی آر کے فارم ہاوس ایراولی کا اراضی سروے | Erravalli Land Survey
حیدرآباد:۔ سابق وزیراعلیٰ کلواکنٹلہ چندرشیکھر راو (کے سی آر) کے فارم ہاؤس کے اطراف ایراولی اراضی سروے پیر کو دوبارہ شروع ہوگیا۔ یہ سروے سدی پیٹ ضلع کے مرکوق منڈل میں جاری ہے۔ ریونیو عہدیداروں نے ایراولی کے اطراف کی زمینوں کا جائزہ لیا۔
عہدیداروں نے قریبی وینکٹاپور اور ورداراج پور کی حدود بھی جانچیں۔ تعطیل کے باعث سروے اتوار کو روک دیا گیا تھا۔ تاہم، ٹیم نے پیر کی صبح دوبارہ کارروائی شروع کردی۔
عہدیداروں نے زمین کے ریکارڈ اور حدود کی جانچ جاری رکھی۔ سروے ٹیم نے خاص طور پر سروے نمبر 325 کی زمین پر توجہ دی۔ اس زمین کا رقبہ تقریباً 388 ایکڑ ہے۔
388 ایکڑ زمین کی حدود اور ملکیت کی جانچ | Erravalli Land Survey
عہدیدار یہ طے کر رہے ہیں کہ کتنا رقبہ سرکاری زمین ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختص زمین کا رقبہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے۔ ٹیم موجودہ قابضین اور نجی پٹہ زمینوں کی تفصیلات بھی جانچ رہی ہے۔
اس کارروائی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سدرشن راتھوڑ شامل ہیں۔ ڈپٹی انسپکٹر سیویانائک بھی سروے ٹیم کا حصہ ہیں۔ گجویل آر ڈی او چندراکلا اور مقامی تحصیلدار بھی کارروائی میں شریک ہیں۔
ریونیو عہدیدار سروے میں سیٹلائٹ میپنگ اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ نتائج کا پرانے ریونیو ریکارڈ سے بھی موازنہ کر رہے ہیں۔ اس عمل سے مختلف اراضی کے قطعات کی حدود طے کی جا رہی ہیں۔
ریکارڈ اور دستاویزات کی بنیاد پر سروے | Erravalli Land Survey
حکام نے سروے نمبر 325 کے تحت زمین رکھنے والے 100 سے زیادہ کسانوں کو نوٹس دیے ہیں۔ نوٹس میں انہیں سروے مقام پر حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کسانوں سے پٹہ دار پاس بکس اور دیگر ملکیتی دستاویزات لانے کو کہا گیا ہے۔
عہدیداروں کے مطابق، فارم ہاؤس کے اطراف اراضی الاٹمنٹ پر اسمبلی میں حالیہ بحث ہوئی تھی۔ دھارنی ریکارڈ میں مبینہ بے قاعدگیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تھا۔ اسی پس منظر میں موجودہ سروے کیا جا رہا ہے۔
سروے مکمل ہونے کے بعد ریونیو حکام تفصیلی رپورٹ تیار کریں گے۔ وہ رپورٹ اعلیٰ عہدیداروں اور ریاستی حکومت کو پیش کی جائے گی۔
اگر سروے میں سرکاری یا مختص زمین پر قبضہ ثابت ہوا تو کارروائی ہوگی۔ عہدیداروں کے مطابق، متعلقہ قواعد کے تحت زمین کا قبضہ لیا جائے گا۔ یوں 388 ایکڑ علاقے میں حدود، ملکیت اور ریونیو ریکارڈ کی جانچ جاری رہی۔
