کالیشورم پراجیکٹ پر این ڈی ایس اے رپورٹ کا انتظار | Kaleshwaram Review
حیدرآباد:۔ وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی نے کالیشورم پراجیکٹ کی ناکامیوں کا ذمہ دار سابق بی آر ایس حکومت کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کی رپورٹ کے بعد مزید کارروائی کرے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تمام فیصلے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
نئی دہلی کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے این اتم کمار ریڈی نے بی آر ایس کے کارگزار صدر کے تارک راما راؤ کے بیانات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سابق حکومت نے پراجیکٹ معیاری انداز میں تعمیر کیا ہوتا تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
وزیر نے کہا کہ ریاستی حکومت این ڈی ایس اے کے جائزے کا انتظار کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ عوام کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
این ڈی ایس اے اجلاس میں پراجیکٹ کا جائزہ | Kaleshwaram Review
این اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی نے 31 جولائی کو اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں کالیشورم پراجیکٹ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ مزید برآں تلنگانہ حکومت اور مرکزی آبی کمیشن کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پراجیکٹ کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ چنانچہ این ڈی ایس اے کی رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
وزیر نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو سیاسی نقطہ نظر سے نہیں دیکھ رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام کارروائی مقررہ ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہے۔
تعمیراتی معیار پر سوالات | Kaleshwaram Review
این اتم کمار ریڈی نے الزام لگایا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں تعمیر کیے گئے بیراج اسی دور میں مسائل کا شکار ہو گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ این ڈی ایس اے نے تینوں بیراجوں کے گیٹس کھلے رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
وزیر نے دعویٰ کیا کہ کالیشورم پراجیکٹ کی ناکامیوں کی بنیادی وجہ تعمیراتی معیار میں خامیاں تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کو بیراجوں کی موجودہ حالت کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ریاستی حکومت این ڈی ایس اے کی رپورٹ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔ یوں حکومت آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور عوام کو مسلسل پانی کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنائے رکھے گی۔
