حیدرآباد میں ہاتھی دانت ضبط | Ivory Seizure
حیدرآباد:۔ ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس حیدرآباد کے افسران نے بڑی کارروائی کی ہے۔ ٹیم نے 4 ہاتھی دانت ضبط کیے ہیں۔ ان کا مجموعی وزن تقریباً 17 کلوگرام بتایا گیا ہے۔
افسران نے ہاتھی دانت سے بنی نقش و نگار والی اشیا بھی ضبط کیں۔ ان اشیا کو ٹرافیز کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران 3 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
یہ کارروائی وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کی متعلقہ دفعات کے تحت ہوئی۔ ڈی آر آئی نے مخصوص خفیہ اطلاع پر یہ کارروائی کی۔ افسران نے مبینہ فروخت کے دوران تینوں افراد کو روکا۔
فروخت کی کارروائی کے دوران کارروائی | Ivory Seizure
ڈی آر آئی افسران نے خفیہ اطلاع کے بعد جال بچھایا تھا۔ اس دوران ہاتھی دانت اور دیگر اشیا کی فروخت جاری تھی۔ افسران نے موقع پر تمام 4 اشیا برآمد کر لیں۔
دوسری جانب، وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 ہاتھی دانت کی تجارت روکتا ہے۔ اس قانون کے تحت ہاتھی دانت سے بنی اشیا کی خرید و فروخت بھی ممنوع ہے۔ گرفتار افراد مبینہ طور پر یہ اشیا فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
لہٰذا ہاتھی دانت کی تجارت کے خلاف قانون سخت پابندیاں عائد کرتا ہے۔ کارروائی اسی قانونی دائرہ کار کے تحت کی گئی۔ مزید برآں، ضبط شدہ اشیا وائلڈ لائف قانون کے تحت اہم حیثیت رکھتی ہیں۔
جنگلی حیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں | Ivory Seizure
ڈی آر آئی ملک بھر میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کرتی ہے۔ ادارہ جنگلی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جنگلی حیات کی ٹرافیز پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
ڈی آر آئی محفوظ انواع سے حاصل اشیا کی غیر قانونی تجارت بھی روکتی ہے۔ ادارے کے مطابق تازہ کارروائی اسی کوشش کا حصہ ہے۔ یوں ادارہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ڈی آر آئی کے مطابق کارروائی کا مقصد غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت روکنا ہے۔ ادارہ منظم جنگلی حیات کی اسمگلنگ کے خلاف بھی اقدامات کرتا ہے۔ اسی دوران خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشنز ملک بھر میں جاری ہیں۔
