Islamic Scholar Legacy
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیّر نے معروف اسلامی عالم، مصنف اور ماہر تعلیم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ مولانا سید سلمان حسینی ندوی مختصر علالت کے بعد لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔
محمد علی شبیّر نے کہا کہ مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال اسلامی علوم اور دینی تعلیم کے میدان میں ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کو حدیث، اسلامی فقہ، سیرت اور عصری اسلامی مطالعات میں غیر معمولی مہارت کے باعث عالمی سطح پر احترام اور پذیرائی حاصل تھی۔
علمی خدمات کو خراج عقیدت | Islamic Scholar Legacy
محمد علی شبیّر نے کہا کہ مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے اپنی تدریس، تصنیفات اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کی کئی نسلوں کی فکری و علمی رہنمائی کی۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ مولانا کی علمی خدمات نے اسلامی فکر اور دینی تعلیم کے فروغ میں دیرپا اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء سے مولانا کی طویل وابستگی کو بھی یاد کیا اور کہا کہ وہ پوری زندگی تعلیمی اصلاحات اور ملت کی فلاح و ترقی کے لیے سرگرم رہے۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ مولانا کی خدمات آئندہ نسلوں کے لیے بھی مشعل راہ رہیں گی۔
تعزیت اور دعائے مغفرت | Islamic Scholar Legacy
محمد علی شبیّر نے مولانا سید سلمان حسینی ندوی کو ایک بااثر استاد، شاندار مقرر اور عالم اسلام کے اہم مسائل پر بے باک آواز قرار دیا۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ مولانا کی شخصیت علم، اعتدال اور رہنمائی کا روشن نمونہ تھی۔
آخر میں محمد علی شبیّر نے مرحوم کے اہل خانہ، شاگردوں، وابستگان اور عقیدت مندوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام سوگواران کو صبر جمیل نصیب کرے۔
