حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے بدھ کے روز مرکزی حکومت سے ریاست کے 4 اہم آبپاشی منصوبوں کو فوری ماحولیاتی منظوری دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے حالیہ سپریم کورٹ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب زیر التوا منظوریوں پر جلد فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
نئی دہلی کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے وزیر آبپاشی این اُتم کمار ریڈی کے ہمراہ مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو سے ملاقات کی۔ انہوں نے پالمورو-رنگاریڈی لفٹ ایریگیشن اسکیم، گوراولی، سیتاراما ساگر اور ڈنڈی منصوبوں کے لیے فوری منظوری دینے کی درخواست کی۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد زیر التوا ماحولیاتی منظوریوں پر کارروائی کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ لہٰذا انہوں نے مرکزی وزیر سے اپیل کی کہ ان منصوبوں کی منظوری کے عمل کو فوری مکمل کیا جائے۔
زیر التوا منصوبوں پر بڑھتے اخراجات | Irrigation Projects
وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ ریاستی حکومت پالمورو-رنگاریڈی لفٹ ایریگیشن منصوبے پر پہلے ہی ₹36,437 کروڑ خرچ کر چکی ہے۔ اسی دوران ڈنڈی لفٹ ایریگیشن اسکیم پر ₹3,187 کروڑ خرچ کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیتاراما ساگر منصوبے پر ₹1,835 کروڑ جبکہ گوراولی منصوبے پر ₹1,350 کروڑ خرچ ہو چکے ہیں۔ تاہم ماحولیاتی منظوری نہ ملنے کے باعث ان منصوبوں کی پیش رفت متاثر ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ فیصلے کے بعد جلد منظوری کی اپیل | Irrigation Projects
ریونت ریڈی نے کہا کہ منظوریوں میں تاخیر کے باعث منصوبوں کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مزید تاخیر کے بغیر تمام ضروری منظوریوں کا اجراء کیا جائے۔
اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ انیل کمار یادو، ومشی کرشنا، وی نریندر ریڈی، ملو روی، راماسہایم رگھو رام ریڈی، پوریکا بلارام نائک اور ڈاکٹر کڈیم کاویہ بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ دہلی میں تلنگانہ حکومت کے خصوصی نمائندے اے پی جتیندر ریڈی، آبپاشی کے مشیر آدتیہ ناتھ داس اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔
