Hyderabad Metro
حیدرآباد:۔ مرکزی حکومت کی منظوری میں تاخیر کے باعث حیدرآباد میٹرو فیز 2 کی لاگت میں 4,335 کروڑ روپے کا اضافہ ہوگیا۔ تلنگانہ حکومت نے منصوبے کی نئی تخمینہ لاگت 38,595 کروڑ روپے مقرر کی ہے۔ پہلے اس منصوبے کی لاگت 34,260 کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔ اس اضافے نے ریاستی حکومت کی مالی ذمہ داری بڑھا دی ہے۔
تلنگانہ حکومت نے نومبر 2024 میں فیز 2 کی تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ مرکزی حکومت کو بھیجی تھی۔ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے اس معاملے پر کئی مرکزی وزرا سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی جلد منظوری دینے کی اپیل کی۔ تاہم منصوبہ اب تک زیر التوا ہے۔
انجینئرنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل تاخیر سے تعمیراتی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ہر گزرتے مہینے کے ساتھ منصوبہ مزید مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا ریاستی حکومت پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
سات توسیعی راہداریاں | Hyderabad Metro
مجوزہ فیز 2 میں مجموعی طور پر 7 نئی راہداریاں شامل ہیں۔ ان کی مجموعی لمبائی 122.6 کلومیٹر ہوگی۔ ان میں ناگول سے شمش آباد ایئرپورٹ 36.8 کلومیٹر شامل ہے۔ رائے درگ سے کوکاپیٹ نیوپولس 11.6 کلومیٹر تک پھیلے گا۔
اسی منصوبے میں ایم جی بی ایس سے چندرائن گٹہ 7.5 کلومیٹر شامل ہے۔ میاپور سے پٹن چیرو 13.4 کلومیٹر طویل راہداری بھی تجویز کی گئی ہے۔ ایل بی نگر سے حیات نگر 7.1 کلومیٹر کا حصہ بھی منصوبے میں شامل ہے۔
مزید برآں جوبلی بس اسٹیشن سے میدچل 24.5 کلومیٹر تک میٹرو چلانے کی تجویز دی گئی ہے۔ جوبلی بس اسٹیشن سے شامی پیٹ تک 22 کلومیٹر نئی لائن بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
مشاورتی جائزہ اور اگلا مرحلہ | Hyderabad Metro
مرکزی حکومت نے منصوبے کے جائزے کے لیے ایس بی آئی کیپس کو مشاورتی ادارہ مقرر کیا ہے۔ تاہم اس تقرری کے سرکاری احکامات ابھی جاری نہیں ہوئے۔ حکام کے مطابق اعلان کے 10 دن بعد بھی باضابطہ کارروائی مکمل نہیں ہوسکی۔
تلنگانہ حکومت پہلے ہی اپنا نمائندہ نامزد کر چکی ہے۔ چنانچہ سرکاری احکامات جاری ہونے کے بعد مشاورتی عمل شروع ہوگا۔ حکام کے مطابق یہ جائزہ تقریباً 6 ماہ میں مکمل ہوسکتا ہے۔
ایس بی آئی کیپس منصوبے کے اثاثوں کا جائزہ لے گی۔ ادارہ توسیعی منصوبوں، تعمیراتی لاگت، مالی وسائل اور دستاویزات کی جانچ بھی کرے گا۔ بعد ازاں وہ تفصیلی رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ عمل دسمبر 2026 تک مکمل ہوجائے گا۔
دوسری جانب حکام نے بتایا کہ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی منگل کے روز ایک بار پھر مرکزی وزرا سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ اس ملاقات میں زیر التوا میٹرو منصوبوں کی منظوری پر بات چیت متوقع ہے۔
