حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت نے بدھ کے روز کوڑنگل میں ٹی جی آئی آئی سی صنعتی راہداری منصوبے سے متاثرہ کسانوں میں ہاؤس سائٹ پٹے تقسیم کیے۔ یہ اقدام وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی ہدایات کے مطابق عمل میں لایا گیا۔
وقارآباد کے ضلع کلکٹر دیپک تیواری نے لاگاچرلہ، حکیم پیٹ اور پولی پلی دیہات کے مستحق افراد میں پٹے تقسیم کیے۔ یہ تقریب کوڑنگل اسمبلی حلقہ کے باسی ریڈی فنکشن ہال میں منعقد ہوئی۔
دیپک تیواری نے کہا کہ حکومت صنعتی ترقی کے ساتھ متاثرہ کسانوں کی فلاح، بازآبادکاری اور بحالی کو یکساں اہمیت دے رہی ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ پٹوں کی تقسیم شفاف اور مقررہ وقت کے اندر مکمل کی گئی۔
553 خاندانوں کو ہاؤس سائٹ پٹے | House Site Pattas
حکام نے مستحق افراد میں پلاٹوں کی تقسیم کے لیے قرعہ اندازی کا انعقاد کیا۔ اس عمل کے تحت 432 مستحقین کو قرعہ اندازی کے ذریعے پلاٹ الاٹ کیے گئے۔ اس کے علاوہ 121 افراد کو براہ راست پلاٹ فراہم کیے گئے۔
یوں مجموعی طور پر 553 خاندان اس پروگرام سے مستفید ہوئے۔ حکام نے پلاٹوں کی تقسیم کا عمل 77 مراحل میں مکمل کیا۔
فائدہ اٹھانے والوں میں حکیم پیٹ کی اسائنڈ اراضی سے تعلق رکھنے والے 175 افراد شامل تھے۔ اسی دوران اسی گاؤں کی پٹہ اراضی کے 113 افراد کو بھی پلاٹ دیے گئے۔ مزید برآں لاگاچرلہ کی اسائنڈ اراضی سے 54 اور پٹہ اراضی سے 173 مستحقین کو فائدہ پہنچا۔ جبکہ پولی پلی کی اسائنڈ اراضی سے تعلق رکھنے والے 38 افراد بھی اس فہرست میں شامل رہے۔
صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے منصوبے | House Site Pattas
ضلع کلکٹر نے لاگاچرلہ، حکیم پیٹ، پولی پلی اور روٹی بانڈہ تانڈہ کے کسانوں کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 230 ایکڑ پر انٹیگریٹڈ اسکول ایجوکیشن ہب قائم کیا ہے۔
اس کے علاوہ جلد ہی ایک انڈسٹریل پارک بھی قائم کیا جائے گا۔ چنانچہ اس منصوبے سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اندرامّا ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 501 مستحقین کو بھی پٹے جاری کیے جا چکے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد اور کوڑنگل کو جوڑنے والی مجوزہ ریڈیل روڈ علاقے کی طویل مدتی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اس تقریب میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اسنیہا مہرا، ایڈیشنل ضلع کلکٹر وینکٹاچاری، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیش مینا، ریونیو ڈویژنل آفیسر انیتا، میونسپل چیئرمین پرشانت، زرعی مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین امپیا گوڑ، عوامی نمائندے، سرکاری افسران، کسان اور مستحق افراد شریک ہوئے۔
