الہ آباد ہائی کورٹ کا حجاب پر فیصلہ ’اسلام پر حملہ‘: اسدالدین اویسی | Hijab Verdict
حیدرآباد:۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے حجاب سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اس فیصلے کو اسلام پر حملہ قرار دیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ عدالت کو مذہبی معاملات طے کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
اویسی نے کہا، “یہ ہمارا مذہب ہے۔” انہوں نے کہا کہ مسلمان خود فیصلہ کریں گے کہ ان کے مذہب میں کیا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سوال کیا کہ جج مذہبی تعلیمات کا تعین کیسے کر سکتے ہیں۔
یہ ردعمل پریاگ راج کے ایک نجی اسکول کی طالبہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد سامنے آیا۔ طالبہ نے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت مانگی تھی۔ تاہم الہ آباد ہائی کورٹ نے 21 اگست کو درخواست مسترد کر دی۔
عدالتی فیصلہ اور آئینی سوالات | Hijab Verdict
جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مسلم خواتین کا حجاب پہننا اسلام میں لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔ مزید برآں عدالت نے طالبہ کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
اویسی نے کہا کہ اسلام میں کیا اہم ہے، اس کا فیصلہ جج نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ملنی چاہیے۔ لہٰذا انہوں نے فیصلے پر شدید اعتراض ظاہر کیا۔
حیدرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 19 اور آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ اسی دوران انہوں نے فیصلے کے وقت پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس وقت سبرمالا معاملے میں لازمی مذہبی روایات سے متعلق مقدمات سن رہی ہے۔
مسلم طالبات کی تعلیم پر خدشات | Hijab Verdict
اویسی نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات اتر پردیش میں مسلم طالبات کی تعلیم پر پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے کئی لڑکیاں تعلیمی اداروں سے دور ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے وندے ماترم تنازع پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی طرّہ باز خان، رابندر ناتھ ٹیگور، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور مہاتما گاندھی سے زیادہ محب وطن ہیں۔ یوں انہوں نے حب الوطنی کے تصور پر بھی سوالات اٹھائے۔
مذہبی آزادی اور حب الوطنی | Hijab Verdict
اویسی نے کہا کہ مسلمان اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے بھارت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ مذہبی عقائد پر سمجھوتہ کرنا حب الوطنی کی شرط نہیں ہے۔
انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سب کا ملک ہے۔ لہٰذا آئین کے دیباچے میں “ہم بھارت کے لوگ” لکھا گیا ہے، “بھارت ماتا” نہیں۔
آخر میں اسدالدین اویسی نے حجاب سے متعلق عدالت کے موقف کی دوبارہ مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی عقیدے کو حب الوطنی سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
