ہنمکنڈہ :کار کی ڈگی سے خاتون کی لاش برآمد | Hanumakonda Car Body
حیدرآباد:۔ ہنمکنڈہ ضلع کے ایلکاتورتی میں پولیس نے ایک کار سے خاتون کی مسخ شدہ لاش برآمد کی۔ کار دو دن سے مرکزی سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔ مزید برآں، مقامی افراد نے شدید بدبو محسوس ہونے پر پولیس کو اطلاع دی۔
ایلکاتورتی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی۔ اہلکاروں نے کار کی مکمل تلاشی لی۔ اسی دوران انہوں نے ڈگی کھولی۔ وہاں خاتون کی لاش انتہائی خراب حالت میں ملی۔
پولیس نے فوراً کلیوز ٹیم کو طلب کیا۔ اس کے علاوہ ڈاگ اسکواڈ کو بھی موقع پر بلایا گیا۔ یوں شواہد جمع کرنے کا عمل شروع ہوا۔
بعد ازاں پولیس نے لاش کو کار سے باہر نکالا۔ پھر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات میں اہم پیش رفت | Hanumakonda Car Body
پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے دوران خاتون کی شناخت کر لی۔ متوفیہ کا تعلق پیداپلی ضلع کے گوداوری کھنی سے بتایا گیا۔ مزید برآں، پولیس نے اس کی شناخت ایک نوجوان خاتون کے طور پر کی۔
تحقیقاتی ٹیم نے یہ جانچ بھی شروع کی کہ کار ایلکاتورتی کیسے پہنچی۔ اس کے علاوہ یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ گاڑی وہاں کس نے چھوڑی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا کہ واقعے سے وابستہ افراد نے کار کرائے پر لی تھی۔ لہٰذا اس پہلو کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا۔
کار کے مالک سریندر کو پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا۔ وہ کرائے پر گاڑی لینے والوں کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ جاری | Hanumakonda Car Body
پولیس نے اطراف کے علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنا شروع کر دی۔ مزید برآں، اہلکار مشتبہ افراد کی تلاش بھی کر رہے ہیں۔
کلیوز ٹیم نے گاڑی اور اطراف سے دستیاب شواہد جمع کیے۔ اسی دوران ڈاگ اسکواڈ نے بھی تحقیقات میں تعاون کیا۔ یوں مختلف زاویوں سے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس سریندر سے مسلسل پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کار کی نقل و حرکت کا ریکارڈ بھی کھنگالا جا رہا ہے۔ لہٰذا گاڑی کے سفر کا مکمل سلسلہ جوڑنے کی کوشش جاری ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار | Hanumakonda Car Body
پولیس کو امید ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اہم معلومات فراہم کرے گی۔ مزید برآں، رپورٹ سے موت کی وجہ اور حالات واضح ہونے میں مدد ملے گی۔
تحقیقاتی ٹیم واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ لاش کار کی ڈگی تک کیسے پہنچی، اس سوال کا بھی جواب تلاش کیا جا رہا ہے۔ یوں ہنمکنڈہ پولیس کی تحقیقات مسلسل جاری ہیں۔
