حسین ساگر میں وسرجن پابندیوں پر احتجاج | Ganesh Immersion Protest
حیدرآباد:۔ حسین ساگر میں گنیش وسرجن پر پابندیوں کے خلاف ٹینک بنڈ پر احتجاج کشیدہ ہوگیا۔ پولیس نے بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی کے کئی قائدین اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ گنیش نوراتری کی تقریبات آخری مرحلے میں پہنچنے کے ساتھ ہی احتجاج شدت اختیار کرگیا۔
بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی نے وسرجن پر پابندیوں سے متعلق لگائے گئے بینروں پر اعتراض کیا۔ کمیٹی ارکان نے حسین ساگر پر انتظامات نہ ہونے پر بھی تنقید کی۔ تاہم، احتجاج کے دوران حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔
ٹینک بنڈ پر بینروں کے خلاف احتجاج | Ganesh Immersion Protest
احتجاج کے دوران کمیٹی ارکان نے ٹینک بنڈ پر لگائے گئے بینر پھاڑ دیے۔ پولیس نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مداخلت کی۔ اس کارروائی کے دوران کئی منتظمین اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔
چنانچہ ٹینک بنڈ کے اطراف کشیدگی پھیل گئی۔ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ دوسری جانب، احتجاج کرنے والی کمیٹی نے وسرجن کے انتظامات پر اپنے اعتراضات برقرار رکھے۔
بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتظامات پر تنقید کی۔ کمیٹی قائدین نے الزام عائد کیا کہ عہدیدار آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔ قائدین نے اس صورتحال کو اپنی اصطلاح میں ’’رضاکار راج‘‘ قرار دیا۔
وسرجن انتظامات پر کمیٹی کا سخت موقف | Ganesh Immersion Protest
کمیٹی نے کہا کہ اگر حکومت سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہی تو وہ اپنے طور پر وسرجن کے انتظامات کرے گی۔ قائدین نے کہا کہ حسین ساگر میں گنیش وسرجن پر پابندیاں لاکھوں ہندوؤں کے جذبات کو متاثر کریں گی۔
اسی دوران، منتظمین نے حکومت یا پولیس کی جانب سے وسرجن جلوس روکنے کی کوشش پر سنگین نتائج کی وارننگ دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حسین ساگر میں گنیش وسرجن صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔
تاہم، پولیس نے بینروں کے خلاف احتجاج کے بعد بھی صورتحال پر قابو پانے کی کوشش جاری رکھی۔ تنازع بنیادی طور پر حسین ساگر میں گنیش وسرجن کے انتظامات اور پابندیوں کے گرد مرکوز رہا۔
