جعلی اسناد: 35 جونیئر لیکچررز برطرف | Forged Certificates Action
حیدرآباد:۔ انٹر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے 35 جونیئر لیکچررز کو ملازمت سے برطرف کردیا۔ حکام نے ان کے تعلیمی سرٹیفکیٹس کو جعلی قرار دیا۔ محکمہ نے ہر لیکچرر کو الگ نوٹس بھی جاری کیا۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام لیکچررز پہلے کنٹریکٹ لیکچررز کے طور پر کام کرتے تھے۔ بعد میں انہیں باقاعدہ طور پر ملازمت میں شامل کیا گیا تھا۔ ریاست میں تقریباً 2 دہائیوں سے کنٹریکٹ لیکچررز انٹرمیڈیٹ طلبہ کو پڑھا رہے ہیں۔
حکام نے تقرری کے دوران امیدواروں کے سرٹیفکیٹس کی کئی بار جانچ کی تھی۔ اسی تصدیقی عمل کے بعد کئی کنٹریکٹ لیکچررز کو باقاعدہ کیا گیا۔ تاہم، بعد میں بعض سرٹیفکیٹس کی اصلیت پر سوال اٹھے۔
محکمہ نے مشتبہ سرٹیفکیٹس متعلقہ یونیورسٹیوں کو بھیجے۔ یونیورسٹیوں نے مبینہ طور پر ان دستاویزات کو جعلی قرار دیا۔ اس تصدیق کے بعد محکمہ نے متعلقہ لیکچررز کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے۔
35 لیکچررز کے خلاف کارروائی | Forged Certificates Action
انٹر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اب 35 لیکچررز کو ملازمت سے ہٹا دیا ہے۔ حکام نے ہر متاثرہ لیکچرر کو انفرادی نوٹس بھیجا۔ ان نوٹس میں ملازمت ختم کرنے کی اطلاع دی گئی۔
اس کارروائی نے سابقہ تصدیقی عمل پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ انٹر ایجوکیشن جے اے سی کے چیئرمین ڈاکٹر پی مدھوسدھن ریڈی نے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ان اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی مانگی جنہوں نے سرٹیفکیٹس درست قرار دیے تھے۔
ڈاکٹر پی مدھوسدن ریڈی نے سی بی سی آئی ڈی اور ویجیلنس تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جعلی سرٹیفکیٹس کے پورے معاملے کی جانچ کی اپیل کی۔ مزید برآں، انہوں نے سابقہ تصدیق کے طریقہ کار کی بھی جانچ مانگی۔
ان کے مطابق تحقیقات میں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مشتبہ سرٹیفکیٹس پہلے کیسے منظور ہوئے۔ اسی دوران، محکمہ نے یونیورسٹیوں کی تصدیق کی بنیاد پر کارروائی کی۔ حکام نے مشتبہ دستاویزات کی اصلیت جانچنے کے بعد فیصلہ کیا۔
مزید 320 لیکچررز کے سرٹیفکیٹس زیر جانچ | Forged Certificates Action
محکمہ نے مزید 320 لیکچررز کے سرٹیفکیٹس پر بھی شکوک ظاہر کیے ہیں۔ یہ لیکچررز ریاست کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔ ان میں کئی سرٹیفکیٹس دیگر ریاستوں کی یونیورسٹیوں کے بتائے گئے ہیں۔
جانچ میں مدورائی کامراج یونیورسٹی کے سرٹیفکیٹس بھی شامل ہیں۔ انامالائی یونیورسٹی اور رانچی یونیورسٹی کے سرٹیفکیٹس بھی زیر غور ہیں۔ اس کے علاوہ، بندیل کھنڈ یونیورسٹی کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے۔
للت نارائن یونیورسٹی کے سرٹیفکیٹس بھی تصدیق کے لیے بھیجے جا رہے ہیں۔ حکام متعلقہ یونیورسٹیوں سے دستاویزات کی تصدیق کرا رہے ہیں۔ اس عمل کا مقصد سرٹیفکیٹس کی اصلیت معلوم کرنا ہے۔
تاہم، 320 لیکچررز کے معاملے میں ابھی نتائج سامنے نہیں آئے۔ اس لیے ان سرٹیفکیٹس کو جعلی قرار نہیں دیا گیا ہے۔ مزید کارروائی کا فیصلہ تصدیق کے نتائج کے بعد ہوگا۔
تازہ کارروائی نے انٹرمیڈیٹ تعلیم میں سرٹیفکیٹ تصدیق پر توجہ بڑھا دی ہے۔ اس معاملے نے سابقہ تصدیقی عمل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ چنانچہ حکام سے ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔
ڈاکٹر پی مدھوسدن ریڈی نے دوبارہ سی بی سی آئی ڈی اور ویجیلنس تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جعلی سرٹیفکیٹس کی مبینہ منظوری کی بھی جانچ مانگی۔ یوں 35 لیکچررز کی برطرفی کے بعد 320 مزید افراد کی جانچ اہم ہوگئی ہے۔
