تلنگانہ کا نیا فشریز منصوبہ | Fisheries Growth
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر برائے حیوانات، ڈیری ڈیولپمنٹ اور فشریز واکیٹی سری ہری نے کہا کہ ریاستی حکومت نے 26,000 تالابوں اور 100 آبی ذخائر پر مشتمل جامع فشریز منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد اندرونِ ریاست مچھلی کی پیداوار بڑھانا ہے۔ مزید برآں، ماہی گیروں کی فلاح اور روزگار کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔
منگل کو وزرا کوارٹرز میں ضلعی ماہی گیر کوآپریٹو سوسائٹیوں کے صدور اور پروموٹرز کے ساتھ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں نچلی سطح کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اسی دوران فشریز شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔
فلاحی اقدامات اور سہولتیں | Fisheries Growth
واکیٹی سری ہری نے کہا کہ حکومت نے ماہی گیروں کو انشورنس، موپیڈ اور ریٹیل دکانیں فراہم کرنے کے لیے عملی منصوبہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر 3 ماہ بعد ضلعی سوسائٹیوں کے صدور کے ساتھ خصوصی اجلاس ہوں گے۔ ان اجلاسوں میں زیر التوا مسائل اور حکومتی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ ماہی گیروں میں مچھلی کے بچے پہلے کی طرح مفت تقسیم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ زیر التوا واجبات کی ادائیگی کے لیے بھی خصوصی کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مالی اور سماجی تحفظ کو مزید بہتر بنانے کے طریقوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اب تک ماہی گیروں کے انشورنس کلیمز کی مد میں ₹1.34 کروڑ ادا کر چکی ہے۔ مزید برآں، اہل درخواستوں پر کارروائی جاری رہے گی۔ جہاں تاخیر ہوگی وہاں فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر نے کوآپریٹو سوسائٹیوں میں رکنیت سے متعلق تنازعات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی، منڈل اور دیہی سطح پر ان مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ لہٰذا مضبوط کوآپریٹو نظام ماہی گیروں کو سرکاری اسکیموں اور منڈیوں تک بہتر رسائی دے گا۔
پیداوار، غذائیت اور مارکیٹنگ | Fisheries Growth
واکیٹی سری ہری نے کہا کہ حکومت مڈ ڈے میل پروگرام میں مچھلی شامل کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی غذائیت بہتر بنانا ہے۔ تاہم، حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے عملی تقاضوں کا مکمل مطالعہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس تجویز سے تلنگانہ میں پیدا ہونے والی مچھلی کے لیے مستقل ادارہ جاتی منڈی بھی پیدا ہوگی۔ اسی دوران حکومت مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور مارکیٹنگ کے بہتر مواقع پیدا کرنے پر کام کر رہی ہے۔
وزیر نے بتایا کہ حیدرآباد کے کوہیڈا میں زیر تعمیر مربوط فش مارکیٹ آن لائن فروخت اور تقسیم میں اہم کردار ادا کرے گی۔ یہ مرکز ماہی گیروں، تاجروں اور صارفین کو منظم نظام کے ذریعے جوڑے گا۔ چنانچہ ذخیرہ، ترسیل اور ریٹیل سہولتوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
پیداوار، غذائیت اور مارکیٹنگ | Fisheries Growth
واکیٹی سری ہری نے کہا کہ حکومت ماہی گیروں کی معاشی ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیا منصوبہ پیداوار میں اضافے کے ساتھ فلاحی اقدامات کو بھی یکجا کرے گا۔ یوں پانی کے وسائل اور روزگار دونوں کو یکساں اہمیت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تالابوں اور آبی ذخائر میں مچھلی کی پیداوار بڑھانا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ مقامی ماہی گیر برادری کو براہ راست معاشی فائدہ بھی پہنچایا جائے گا۔ مزید برآں، انشورنس، نقل و حرکت، ریٹیل آؤٹ لیٹس اور منظم مارکیٹوں تک رسائی مزید بہتر بنائی جائے گی۔
وزیر نے کہا کہ کوآپریٹو سوسائٹیوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت جاری رہے گی۔ فیلڈ سطح سے حاصل ہونے والی آرا کے ذریعے پالیسیوں میں بہتری لائی جائے گی۔ آخر میں انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت ماہی گیروں کے مسائل کے حل اور ان کی مسلسل معاونت کے لیے پُرعزم ہے۔
