کسان شناختی رجسٹریشن 30 ستمبر تک جاری | Farmer ID Registration
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے دیہات میں کسان شناختی رجسٹریشن کا عمل 22 ستمبر سے شروع ہوگیا۔ محکمہ زراعت نے اس مقصد کے لیے خصوصی مہم شروع کی ہے۔ یہ مہم 30 ستمبر تک جاری رہے گی۔
محکمہ زراعت نے غیر رجسٹرڈ کسانوں کو ایک اور موقع دیا ہے۔ اس مہم کا مقصد زرعی فلاحی اسکیموں تک شفاف رسائی فراہم کرنا ہے۔ مزید برآں، کسان سبسڈی، رعایت اور دیگر خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ایگری اسٹاک کے ذریعے کسان رجسٹری ہر کسان کے لیے منفرد شناخت بنائے گی۔ اس شناخت کو کسان کی زمین کی تفصیلات سے جوڑا جائے گا۔ یوں کسان کی معلومات ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی۔
ڈیجیٹل رجسٹری سے سرکاری خدمات تک رسائی | Farmer ID Registration
محکمہ زراعت کے مطابق کسان رجسٹری زرعی اسکیموں کے ڈیجیٹل نفاذ میں مدد دے گی۔ اس نظام میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اسکیمیں شامل ہوں گی۔ اسی دوران رجسٹرڈ کسانوں کو اپنی کسان شناخت محفوظ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
خصوصی مہم کے دوران زرعی توسیعی افسران دیہات میں دستیاب رہیں گے۔ غیر رجسٹرڈ کسان رجسٹریشن کے لیے ان سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ لہٰذا کسان ضروری دستاویزات اور تفصیلات اپنے ساتھ رکھیں۔
رجسٹریشن کے لیے آدھار کارڈ اور پٹہ پاس بک ضروری ہے۔ کسان کو آدھار سے منسلک موبائل نمبر بھی دینا ہوگا۔ اس نمبر کے ذریعے تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
محکمہ زراعت نے اہل کسانوں سے خصوصی موقع استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس اقدام سے مزید کسان ڈیجیٹل رجسٹری میں شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ان کے ریکارڈ زرعی خدمات سے منسلک ہوں گے۔
آدھار-او ٹی پی کے ذریعے رجسٹرڈ کسان اپنی شناخت آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے کسان رجسٹری پورٹل استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یوں کسان دوبارہ رجسٹریشن کیے بغیر اپنی تفصیلات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔
موجودہ کسان شناخت کی آن لائن تصدیق | Farmer ID Registration
رجسٹرڈ کسان کسان رجسٹری پورٹل پر اپنی شناخت چیک کرسکتے ہیں۔ انہیں اپنا آدھار نمبر درج کرنا ہوگا۔ اس کے بعد آدھار سے منسلک موبائل نمبر پر او ٹی پی بھیجا جائے گا۔
او ٹی پی درج کرنے کے بعد کسان اپنی شناخت کی تفصیلات دیکھ سکیں گے۔ یہ عمل پہلے سے رجسٹرڈ کسانوں کو آسانی فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، وہ اپنی معلومات کی آن لائن تصدیق کرسکتے ہیں۔
محکمہ زراعت نے کسانوں کو شناخت محفوظ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ شناخت مستقبل میں سرکاری زرعی اسکیموں کے لیے اہم ہوگی۔ اسی وجہ سے محکمہ نے اسے محفوظ رکھنے پر زور دیا ہے۔
کسان رجسٹری کسان کی شناخت اور زمین کی معلومات کو جوڑے گی۔ اس سے زرعی فلاحی اقدامات کی ڈیجیٹل فراہمی میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ مرکزی اور ریاستی اسکیموں تک رسائی آسان ہوگی۔
جو کسان اب تک رجسٹری سے باہر ہیں، وہ موجودہ مدت استعمال کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے گاؤں میں موجود زرعی توسیعی افسران سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ چنانچہ وہ 30 ستمبر تک رجسٹریشن مکمل کرسکیں گے۔
یہ خصوصی مہم نئی رجسٹریشن اور موجودہ شناخت کی تصدیق دونوں پر مشتمل ہے۔ رجسٹرڈ کسان آدھار-او ٹی پی کے ذریعے اپنی تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب غیر رجسٹرڈ کسان گاؤں کی سطح پر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔
محکمہ زراعت نے کسان شناخت محفوظ رکھنے کی اہمیت واضح کی ہے۔ یہ شناخت اہل کسانوں کے لیے زرعی اسکیموں اور خدمات میں استعمال ہوگی۔ یوں ڈیجیٹل نظام کسانوں کے سرکاری ریکارڈ کو ایک پلیٹ فارم سے جوڑے گا۔
