لڑکے کے معدے سے بلیڈ کے ٹکڑے نکالے گے| Endoscopic Treatment
حیدرآباد:۔ عثمانیہ جنرل اسپتال میں 16 سالہ لڑکے کے جسم سے بلیڈ کے ٹکڑے کامیابی سے نکال لیے گئے۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا۔ تاہم بروقت طبی مداخلت سے ممکنہ پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہو گیا۔
محمد مجیب الرحمن کو اہل خانہ اسپتال لے کر آئے۔ انہیں جنرل سرجری شعبے میں داخل کیا گیا۔ مزید برآں ایکسرے کے ذریعے جسم میں بلیڈ کے ٹکڑوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
بروقت طبی کارروائی | Endoscopic Treatment
ڈاکٹروں نے معدے اور آنتوں کو ممکنہ نقصان کے خدشے کے پیش نظر مریض کو گیسٹرواینٹرولوجی شعبے میں منتقل کیا۔ اس کے علاوہ تیز دھار ٹکڑوں سے سوراخ ہونے کے امکان کا بھی جائزہ لیا گیا۔ لہٰذا فوری علاج کا فیصلہ کیا گیا۔
طبی ٹیم نے اینڈوسکوپی کے ذریعے بلیڈ کے تمام ٹکڑے نکال دیے۔ یہ کم سے کم جراحی والا طریقہ علاج تھا۔ اسی دوران پورا عمل ایچ او ڈی ڈاکٹر بی رمیش کمار کی نگرانی میں مکمل ہوا۔
مریض کی صحت بہتر | Endoscopic Treatment
اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کے مطابق علاج بغیر کسی پیچیدگی کے مکمل ہوا۔ مزید برآں مریض کی حالت مستحکم رہی۔ یوں کھلی سرجری کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
ڈاکٹروں کے مطابق تیز دھار اشیا نگلنے سے معدے اور آنتوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اس معاملے میں بروقت اینڈوسکوپی نے ممکنہ خطرات کو روک دیا۔ بعد ازاں محمد مجیب الرحمن کی صحت بہتر رہی اور انہیں مکمل نگرانی میں رکھا گیا۔
