حیدرآباد:۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ نے مرکزی حکومت پر تعلیم کو کاروبار بنانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی پالیسیوں سے طلبہ اور نوجوانوں کے مفادات متاثر ہوئے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان فیصلوں نے لاکھوں امیدواروں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مہیش کمار گوڑ بوئن پلی میں منعقدہ “چھاتروں کی گونج” پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سرکاری وہپ ڈاکٹر بالمور وینکٹ بھی موجود تھے۔ رکن اسمبلی سری گنیش، کارپوریشنوں کے چیئرمین، سابق مرکزی وزیر وینو گوپال چاری، کانگریس کی ذیلی تنظیموں کے قائدین، طلبہ اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
طلبہ کے مستقبل پر تشویش | Education Commercialisation
مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بھرتی اور مسابقتی امتحانات کے پرچے بار بار لیک ہونے سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوان بھی ان واقعات سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ لہٰذا ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے متعدد الزامات کے باوجود وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے اس معاملے میں کوئی مؤثر کارروائی بھی نہیں کی۔
راہل گاندھی کی مہم کا ذکر | Education Commercialisation
مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ راہل گاندھی نے طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ملک گیر مہم شروع کی ہے۔ ان کے مطابق اس مہم کا مقصد مرکزی حکومت پر عوامی دباؤ بڑھانا ہے۔ چنانچہ انہوں نے طلبہ، نوجوانوں اور عوام سے اس تحریک میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔
