نیپال سیلاب کے نام پر آن لائن فراڈ | Donation Scam
حیدرآباد:۔ نیپال میں سیلاب متاثرین کی مدد کے نام پر آن لائن فراڈ کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ سائبر مجرموں نے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور کیو آر کوڈز کے ذریعے عطیات جمع کرنے کی کوشش کی۔
26 اگست کو نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ مزید برآں، اس آفت میں سیکڑوں افراد جان سے گئے، ہزاروں لاپتا ہوئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے۔
دنیا بھر سے متاثرین کی مدد کے لیے عطیات آنے لگے۔ تاہم، سائبر جرائم پیشہ گروہوں نے اسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی فنڈ ریزنگ مہمات شروع کر دیں۔
جعلسازوں نے فیس بک، واٹس ایپ، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور وائبر پر جعلی صفحات اور گروپس بنائے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے وزیر اعظم کی قدرتی آفات سے متعلق امدادی مہم کے نام استعمال کیے تاکہ مہمات اصلی دکھائی دیں۔
جعلی کیو آر کوڈز اور فشنگ لنکس کا استعمال | Donation Scam
سائبر مجرموں نے سرکاری لوگوز کی نقل بھی تیار کی۔ یوں انہوں نے جعلی کیو آر کوڈز بنا کر عوام کو عطیات بھیجنے کی ترغیب دی۔
متاثرہ افراد نے جب ان کیو آر کوڈز کو اسکین کیا تو رقم مبینہ طور پر مجرموں کے ذاتی بینک کھاتوں یا ای-والیٹس میں منتقل ہوئی۔ مزید برآں، بعض جعلسازوں نے فون کالز اور پیغامات کے ذریعے بھی لوگوں سے رابطہ کیا۔
انہوں نے فشنگ لنکس بھیجے اور امدادی رجسٹریشن کے نام پر بینک تفصیلات اور او ٹی پیز طلب کیے۔ لہٰذا، شہریوں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
کچھ افراد نے بین الاقوامی نمبروں سے کالیں بھی کیں۔ اسی دوران، انہوں نے خود کو سیلاب میں پھنسے ہوئے رشتہ دار ظاہر کیا اور فوری رقم بھیجنے کی درخواست کی۔
اے آئی سے جعلی رسیدیں بھی تیار کی گئیں | Donation Scam
سائبر مجرموں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے جعلی عطیہ رسیدیں بھی تیار کیں۔ اس کے علاوہ، ایک شخص نے مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے وزیر اعظم کے امدادی فنڈ میں ₹1.2 لاکھ عطیہ دینے کی جعلی رسید بنائی۔
اس شخص نے اپنی ذاتی کیو آر کوڈ بھی رسید کے ساتھ شامل کی۔ یوں کئی شہریوں نے اسے درست سمجھ کر اسی کیو آر کوڈ کے ذریعے رقم منتقل کر دی۔
پولیس نے مخصوص معلومات ملنے کے بعد ملزم کا سراغ لگایا۔ بعد ازاں، اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے نے واضح کیا کہ جعلی رسیدیں اور کیو آر کوڈ فراڈ ایک ساتھ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
شہری صرف سرکاری ذرائع سے عطیات دیں | Donation Scam
اے سی پی سائبر کرائمز حیدرآباد آر جی شیواماروتی نے عوام کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عطیات صرف سرکاری ذرائع سے ہی بھیجے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف حکومت کی جانب سے جاری کردہ بینک اکاؤنٹس اور کیو آر کوڈز استعمال کیے جائیں۔ دوسری جانب، سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے ذاتی اکاؤنٹس پر اعتماد نہ کیا جائے۔
انہوں نے مشکوک لنکس، کیو آر کوڈز اور ذاتی اکاؤنٹ نمبروں سے محتاط رہنے کی ہدایت دی۔ چنانچہ، کسی بھی شخص کو او ٹی پی، پن، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کی معلومات ہرگز فراہم نہ کی جائیں۔
اگر کسی کو مشکوک پیغام یا کیو آر کوڈ موصول ہو تو اسے آگے نہ بھیجا جائے۔ اس کے علاوہ، ایسے معاملات کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن کو دی جائے۔
