تلنگانہ میں نئے فوجداری قوانین پر ڈیجیٹل کانفرنس | Digital Justice
حیدرآباد:۔ تلنگانہ پولیس اور تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشل اکیڈمی جمعرات کو سکندرآباد میں مشترکہ کانفرنس منعقد کریں گے۔ کانفرنس کا مقصد نئے فوجداری قوانین کے مؤثر نفاذ کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ فوجداری نظام انصاف میں ڈیجیٹل رابطہ کاری کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔
یہ کانفرنس تفتیش سے عدالتی کارروائی تک مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے پر توجہ دے گی۔ مزید برآں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
تلنگانہ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سی وی آنند نے کہا کہ کانفرنس میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کے دوران پیش آنے والے مسائل پر غور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف محکموں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشل اکیڈمی اس کانفرنس کی میزبانی کرے گی۔ یہ پروگرام تلنگانہ پولیس کے اشتراک سے منعقد ہوگا۔ کانفرنس کا عنوان “New Criminal Laws – Strengthening Criminal Justice System through Digital Platforms” رکھا گیا ہے۔
سی وی آنند نے بتایا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ نے کانفرنس کی منظوری دی۔ وہ تقریب کے مہمان خصوصی بھی ہوں گے۔ وہ کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔
جسٹس موشومی بھٹاچاریہ بھی پروگرام میں شریک ہوں گی۔ ایڈوکیٹ جنرل اے سدرشن ریڈی بھی شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ عدلیہ، پولیس، جیل اور استغاثہ کے سینئر افسران بھی موجود ہوں گے۔
ڈیجیٹل نظام میں موجود خلا پر غور | Digital Justice
کانفرنس سے قبل سی وی آنند نے جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں نئے قوانین کے ڈیجیٹل نفاذ سے وابستہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ مختلف محکموں نے اپنی پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز پیش کیں۔
سی وی آنند نے ان پریزنٹیشنز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے چند ضروری ترامیم بھی تجویز کیں۔ مزید برآں اجلاس میں ڈیجیٹل رابطہ کاری کے مختلف نظاموں پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس، عدلیہ، استغاثہ، طبی شعبہ، فرانزک اور محکمہ جیل ایک ہی نظام کا حصہ ہیں۔ لہٰذا ان اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق بروقت انصاف کے لیے یہی تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈیجیٹل شواہد اور کیس مینجمنٹ پر توجہ | Digital Justice
کانفرنس میں ای-ساکشیہ اور ای-ایف آئی آر پر تکنیکی پریزنٹیشنز پیش ہوں گی۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل شواہد کے انتظام پر بھی گفتگو ہوگی۔ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شہادتوں کے ریکارڈ کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
شرکا جدید کیس مینجمنٹ سسٹم پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ مزید برآں مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تیز تبادلے پر بھی غور ہوگا۔ چنانچہ اس عمل سے قانونی کارروائی میں تاخیر کم ہونے کی توقع ہے۔
مقررہ مدت پر عمل درآمد بہتر بنانے کی کوشش | Digital Justice
سی وی آنند نے کہا کہ قانونی مدت پر عمل درآمد کے معاملے میں تلنگانہ کی قومی درجہ بندی بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق کمزور رابطہ کاری اس کی ایک اہم وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں ان خامیوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ اس کے بعد عملی تجاویز بھی تیار کی جائیں گی۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ شواہد اور رپورٹس کی تیز رفتار ڈیجیٹل فراہمی سے غیر ضروری تاخیر کم ہوگی۔
ڈی جی پی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی انصاف کی فراہمی کو مزید تیز بنا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے تلنگانہ کی قومی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔ کانفرنس مختلف اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لائے گی۔ اس کے ذریعے تفتیش، شواہد، استغاثہ اور عدالتی کارروائی میں بہتر ڈیجیٹل ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔
