امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کو اکثریت | Congress Power Shift
حیدرآباد:۔ ڈیموکریٹس نے امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔ اس طرح 2023 کے بعد پہلی مرتبہ کانگریس کا مکمل کنٹرول پارٹی کے پاس آگیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور بڑے امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے بیشتر اہم انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد کامیابی کی تصدیق کی۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت | Congress Power Shift
ان نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف عوامی ناراضگی کا اظہار قرار دیا جارہا ہے۔ ووٹروں کی ناراضگی کی وجوہات میں زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات شامل ہیں۔ ایران تنازع سے منسلک توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بھی اہم وجہ بنا۔ اس کے علاوہ دیگر معاشی دباؤ نے بھی انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔
ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی کئی نشستیں ری پبلکنز سے چھین لیں۔ ان میں ٹیکساس، اوہائیو، کنساس، آئیووا اور جنوبی کیرولائنا جیسی ریاستیں شامل ہیں۔ یہ ریاستیں پہلے ری پبلکنز کے مضبوط سیاسی گڑھ سمجھی جاتی تھیں۔ دوسری جانب، ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان میں بھی واضح اکثریت حاصل کی۔
بھارتی نژاد امیدواروں کی نمایاں کامیابیاں | Congress Power Shift
بھارتی نژاد امیدواروں، جن میں زیادہ تر ڈیموکریٹس شامل ہیں، نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ فلوریڈا کے 22 ویں کانگریشنل ضلع میں ڈیموکریٹ امیدوار پیا ڈانڈیا نے ری پبلکن کیسی اسکر کو شکست دی۔ انہیں تقریباً 52 فیصد ووٹ ملے۔ سابق ہائی اسکول پرنسپل پیا ڈانڈیا فلوریڈا سے امریکی ایوان نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والی پہلی بھارتی نژاد امریکی خاتون بن گئی ہیں۔
جنوبی فلوریڈا کی اس انتخابی نشست پر مقابلہ سخت تھا۔ ان کی کامیابی سے کانگریس میں جنوبی ایشیائی نمائندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
ورجینیا کے 10 ویں کانگریشنل ضلع میں موجودہ ڈیموکریٹ رکن سہا سبرامنیم نے اپنی نشست برقرار رکھی۔ انہوں نے ری پبلکن ڈیو بیک وِد کو تقریباً 61 سے 63 فیصد ووٹوں سے شکست دی۔ وہ اوباما انتظامیہ میں ٹیکنالوجی پالیسی کے مشیر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پہلی مرتبہ 2024 میں یہ نشست جیتی تھی۔ اب وہ ورجینیا سے کانگریس کے پہلے بھارتی نژاد امریکی رکن کی حیثیت برقرار رکھیں گے۔
ترقی پسند ڈیموکریٹ رکن پرمیلا جے پال نے واشنگٹن کے 7 ویں ضلع میں آسان کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ری پبلکن نِراو شیٹھ کے مقابلے میں تقریباً 87 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
بھارتی نژاد امیدوارروکھنہ اور امی بیرا | Congress Power Shift
رو کھنہ نے کیلیفورنیا کے 17 ویں ضلع میں اپنی نشست برقرار رکھی۔ اس ضلع میں سلیکان ویلی کے بعض علاقے شامل ہیں۔ انہوں نے بھارتی نژاد ری پبلکن امیدوار ریتیش ٹنڈن کو شکست دی۔ اسی طرح امی بیرا نے کیلیفورنیا کے 3 ویں ضلع سے ایک اور مدت کے لیے کامیابی حاصل کی۔
میری لینڈ کی لیفٹیننٹ گورنر ارونا ملر بھی گورنر ویس مور کے انتخابی پینل میں برقرار رہیں۔ حیدرآباد میں پیدا ہونے والی ارونا ملر نے اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھی۔ ویس مور نے دوبارہ گورنر منتخب ہوکر کامیابی حاصل کی۔
وسکونسن کے اٹارنی جنرل جوش کول اور جارجیا کی ریاستی ایوان نمائندگان کے رکن جیوَت سنگھ نے بھی بھارتی نژاد امیدواروں میں کامیابیاں حاصل کیں۔
تاہم، ری پبلکن امیدوار وویک راماسوامی کو اوہائیو کے گورنر انتخاب میں شکست ہوئی۔ ڈیموکریٹ امیدوار ایمی ایکٹن نے انہیں ہرایا۔ سابق ریاستی ہیلتھ ڈائریکٹر ایمی ایکٹن اوہائیو کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوگئیں۔ اس شکست کے ساتھ راماسوامی کی ریاستی سطح پر عہدہ حاصل کرنے کی کوشش ختم ہوگئی۔ انہوں نے 2024 میں صدارتی انتخاب لڑا تھا۔ اس کے بعد وہ محکمہ حکومتی کارکردگی سے بھی وابستہ رہے۔
دیگر بھارتی نژاد ری پبلکن امیدواروں کو بھی کامیابی نہیں ملی۔ ان میں ریتیش ٹنڈن اور نِراو شیٹھ شامل ہیں۔ لاس اینجلس کے میئر انتخاب میں کیرالا میں پیدا ہونے والی ڈیموکریٹ نیتھیا رامن ابتدائی نتائج میں موجودہ میئر کیرن باس سے پیچھے تھیں۔
مسلم امریکی امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں | Congress Power Shift
مسلم امریکی امیدواروں نے بھی کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔ ڈیموکریٹ عبدالسید نے مشی گن کی خالی امریکی سینیٹ نشست جیت لی۔ انہوں نے ری پبلکن مائیک راجرز کو شکست دی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے 4 نومبر کو اس مقابلے کا نتیجہ جلد ہی واضح کردیا تھا۔
پیشہ ورانہ طور پر ڈاکٹر اور ڈیٹرائٹ کے سابق ہیلتھ ڈائریکٹر عبد السید امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلم امریکی بن گئے۔ ان کی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں، معاشی عدم مساوات اور خارجہ پالیسی میں تحمل پر زور دیا گیا تھا۔
ایوان نمائندگان میں آدم حموی نے نیو جرسی کے 12 ویں ضلع سے کامیابی حاصل کی۔ وہ اس ریاست سے کانگریس کے پہلے مسلم رکن بن گئے ہیں۔ مصری نژاد امریکی پلاسٹک سرجن آدم حموی امریکی فوج میں کامبیٹ سرجن بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے غزہ میں رضاکارانہ خدمات انجام دی تھیں۔ وہ ریٹائر ہونے والی ڈیموکریٹ بونی واٹسن کولمین کی جگہ لیں گے۔
ڈومینیکن نژاد امریکی ڈاریالیزا نے بعد میں اسلام قبول کیا تھا | Congress Power Shift
نیو یارک کے 13 ویں ضلع سے ڈاریالیزا اویلا شیولیئر منتخب ہوئیں۔ وہ کانگریس میں پہنچنے والی پہلی لاطینی مسلم خاتون بن گئی ہیں۔ ڈومینیکن نژاد امریکی ڈاریالیزا نے بعد میں اسلام قبول کیا تھا۔ انہیں نیو یارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔
انہوں نے پرائمری انتخاب میں طویل عرصے سے عہدے پر فائز ایڈریانو ایسپائیاٹ کو شکست دی تھی۔ اس کے بعد عام انتخاب میں بھی ری پبلکن حریف کو بڑے فرق سے ہرایا۔
مسلم امریکی موجودہ ارکان نے بھی اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔ ان میں مینیسوٹا کے 5 ویں ضلع سے الہان عمر شامل ہیں۔ مشی گن کے 12 ویں ضلع سے رشیدہ طلیب کامیاب ہوئیں۔ انڈیانا کے 7 ویں ضلع سے آندرے کارسن نے بھی کامیابی حاصل کی۔ کیلیفورنیا کے 12 ویں ضلع سے لطیفہ سائمن نے اپنی نشست برقرار رکھی۔
4 نومبر کی صبح سامنے آنے والی رپورٹوں میں اگلی کانگریس کے لیے 7 مسلم ارکان کی کامیابی شمار کی گئی تھی۔ تاہم، کیلیفورنیا کے 14 ویں ضلع میں عائشہ وہاب کے انتخابی مقابلے کا نتیجہ حتمی شکل اختیار نہیں کرسکا تھا۔ وہ اس سے پہلے خصوصی انتخاب میں کامیابی حاصل کرچکی تھیں۔
ریاستی سطح پر بھی مسلم نمائندگی میں اضافہ | Congress Power Shift
ریاستی انتخابات میں بھی مسلم امریکی امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ نیو یارک اسٹیٹ سینیٹ کے 12 ویں ضلع سے ابر کواس نے تقریباً 74 سے 75 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ وہ نیو یارک ریاستی مقننہ میں منتخب ہونے والی پہلی فلسطینی نژاد امریکی خاتون بن گئیں۔ وہ حجاب پہننے والی پہلی منتخب خاتون بھی ہیں۔
ٹیکساس میں لیٹیشیا پلمر ہیرس کاؤنٹی کی جج منتخب ہوئیں۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون اور پہلی مسلم شخصیت ہیں۔ دوسری جانب، جارجیا کی رُوما رومّان نے ریاستی ایوان نمائندگان سے ریاستی سینیٹ تک کا سفر مکمل کیا۔ وہ ضلع 7 سے منتخب ہوکر جارجیا کے ایوان بالا میں پہنچنے والی پہلی فلسطینی نژاد امریکی بن گئیں۔
یہ نتائج انتخاب سے پہلے کی اس صورت حال میں مزید اضافہ کرتے ہیں، جس میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے مسلم منتخب نمائندوں کی ریکارڈ تعداد کی نشاندہی کی تھی۔ بھارتی نژاد امریکی دونوں سیاسی جماعتوں میں اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔ تاہم، اس انتخاب میں ڈیموکریٹس کی کامیابیاں زیادہ نمایاں رہیں۔
نئی کانگریس کے سیاسی اور خارجہ پالیسی پر اثرات | Congress Power Shift
کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول سے انہیں اہم سیاسی اختیارات حاصل ہوں گے۔ اب وہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی تحقیقات بہتر انداز میں کرسکیں گے۔ مزید برآں، قانون سازی کی سمت طے کرنے میں بھی ان کا کردار مضبوط ہوگا۔
خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر بھی نئی کانگریس اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ان میں جاری ایران تنازع سے متعلق فیصلے بھی شامل ہیں۔ بعض انتخابی حلقوں میں سرکاری توثیق کا عمل ابھی جاری ہے۔ تاہم، مجموعی انتخابی نتیجہ اور تاریخی کامیابیوں کا رجحان واضح ہوچکا ہے۔
نئی کانگریس جنوری 2027 میں اپنا عہدہ سنبھالے گی۔ اس کے ساتھ امریکی سیاست میں ڈیموکریٹس کی نئی پارلیمانی پوزیشن کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
