کیٹیگری-بی داخلوں پر سخت نگرانی | Category B Admissions
حیدرآباد:۔ تلنگانہ ہیومن رائٹس کمیشن نے اعلیٰ تعلیمی حکام کو انجینئرنگ کالجوں میں کیٹیگری-B داخلہ قواعد پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی۔ مزید برآں کمیشن نے کہا کہ شفافیت، انصاف اور مساوی مواقع یقینی بنانا ضروری ہے۔
یہ ہدایات جسٹس شمیم اختر کی سربراہی میں کمیشن نے ایک شکایت کی سماعت کے دوران جاری کیں۔ شکایت کیٹیگری-B مینجمنٹ اور این آر آئی داخلوں سے متعلق تھی۔
عثمانیہ یونیورسٹی کی جے اے سی کے پالادوگو سرینواس نے یہ شکایت درج کرائی۔ انہوں نے 2021-22 تعلیمی سال کے داخلوں میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔
شکایت میں دھولاپلی کے سینٹ مارٹنز انجینئرنگ کالج اور شمش آباد کے وردھمان کالج آف انجینئرنگ کا ذکر کیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں اداروں کے داخلہ عمل پر سوالات اٹھائے گئے۔
شکایت اور کونسل کی رپورٹ | Category B Admissions
تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن نے کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں کالجوں نے 18 ستمبر 2021 کو داخلہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
کونسل کے مطابق یہ نوٹیفکیشن 3 اخبارات میں شائع کیے گئے۔ مزید برآں دونوں اداروں نے مقررہ رہنما اصولوں اور شیڈول کے مطابق داخلے مکمل کیے۔
تاہم شکایت کنندہ نے کونسل کے مؤقف سے اختلاف کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے الزامات کے حق میں دستاویزات بھی پیش کیں۔
کمیشن نے ان الزامات کو سنجیدگی سے لیا۔ اس نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو مقررہ طریقہ کار اور عملی نفاذ کے درمیان فرق سامنے آسکتا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ ایسی صورتحال اہل اور میرٹ رکھنے والے طلبہ کے تعلیمی مواقع کو متاثر کرسکتی ہے۔ لہٰذا ہر مرحلے پر مکمل احتیاط ضروری ہے۔
قواعد پر سخت عمل درآمد کی ہدایت | Category B Admissions
تلنگانہ ہیومن رائٹس کمیشن نے کہا کہ تمام کالجوں کو منظور شدہ داخلہ قواعد پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ مزید برآں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی قابل قبول نہیں ہوگی۔
کمیشن نے تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن کو ہدایت دی کہ وہ داخلہ رہنما اصولوں پر سختی سے عمل کرائے۔ اس کے علاوہ غیر مجاز یا من مانی طریقوں کو فوری روکا جائے۔
کمیشن نے کہا کہ داخلہ عمل میں شفافیت اور انصاف ہر صورت برقرار رہنا چاہیے۔ یوں ہر اہل امیدوار کو مساوی موقع فراہم کیا جاسکے گا۔
یہ حکم 2021-22 کے داخلوں سے متعلق شکایت اور کونسل کی رپورٹ کے جائزے کے بعد جاری کیا گیا۔ تاہم کمیشن نے واضح کیا کہ طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے مقررہ قواعد پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔
