تلنگانہ اور کیمبرج میں تعاون | Cambridge Collaboration
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت اور کیمبرج یونیورسٹی کی تعلیمی ٹیم نے باہمی تعاون کا فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ تعاون تعلیم، مشترکہ تحقیق، کاروباری سرگرمیوں اور اختراع پر مشتمل ہوگا۔
یہ اتفاق رائے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت میں تلنگانہ رائزنگ وفد اور کیمبرج کی تعلیمی ٹیم کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ مزید برآں، دونوں فریقوں نے مستقبل کے تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
حکومت نے اس اقدام کو عالمی اداروں کے ساتھ روابط بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔ اس کے علاوہ، اس کا مقصد حیدرآباد کو عالمی علمی مرکز کے طور پر فروغ دینا بھی ہے۔
تعلیمی منصوبوں پر گفتگو | Cambridge Collaboration
وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے حیدرآباد میں بین الاقوامی اداروں کے لیے موجود مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شہر کی تعلیمی اور تحقیقی صلاحیتوں کو نمایاں کیا۔
مزید برآں، انہوں نے تلنگانہ کے عالمی معیار کے علمی مرکز کے وژن کی وضاحت کی۔ لہٰذا، دونوں فریقوں نے حیدرآباد میں کیمبرج سے منسلک تعلیمی پروگرام متعارف کرانے پر تبادلہ خیال کیا۔
اسی دوران، مشترکہ تحقیقی منصوبوں پر بھی بات ہوئی۔ اس کے علاوہ، کاروباری سرگرمیوں اور اختراع کے لیے انکیوبیشن مراکز کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کیمبرج ماہرین کی دلچسپی | Cambridge Collaboration
کیمبرج کی نمائندگی پروفیسر جے دیپ پربھو نے کی۔ وہ کیمبرج جج بزنس اسکول میں حکومت ہند کے تعاون سے قائم چیئر آف مارکیٹنگ پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پروفیسر وینکٹا سیریش گنڈیکوٹا بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ وہ کیمبرج جج بزنس اسکول سے وابستہ ہیں اور فروگل اے آئی کے شریک چیئرمین رہ چکے ہیں۔
دونوں ماہرین نے تلنگانہ حکومت کے ساتھ شراکت داری میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ یوں، مستقبل کے تعلیمی اور تحقیقی تعاون کی راہ مزید ہموار ہوئی۔
تعاون کا فریم ورک تیار ہوگا | Cambridge Collaboration
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے مشترکہ فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ فریم ورک مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہوگا۔
مزید برآں، اس میں حیدرآباد میں تعلیمی پروگراموں کے آغاز کا جائزہ لیا جائے گا۔ اسی دوران، مشترکہ تحقیق کے طریقہ کار بھی وضع کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ، کاروباری سرگرمیوں اور اختراع کے لیے انکیوبیشن کو بھی شامل کیا جائے گا۔ لہٰذا، تعاون صرف تعلیم تک محدود نہیں رہے گا۔
عالمی علمی مرکز کے وژن کو تقویت | Cambridge Collaboration
اجلاس میں تعلیمی روابط کو تحقیق اور کاروباری ترقی سے جوڑنے پر زور دیا گیا۔ یوں، نوجوانوں اور تحقیقی اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
تلنگانہ وفد نے حیدرآباد کو عالمی تعلیمی اداروں کے لیے موزوں مرکز قرار دیا۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ایسے ادارے ریاست کے عالمی علمی ماحولیے کے وژن کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
اجلاس میں انڈسٹریز اور آئی ٹی کے وزیر ڈی سری دھر بابو بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ، سینئر عہدیدار کے رام کرشنا راؤ اور جیش رنجن نے بھی شرکت کی۔
دونوں فریقوں نے تعاون کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری پر اتفاق کیا۔ تاہم، اس فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
