Cabinet Decisions
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کابینہ نے جمعرات کو کئی اہم پالیسی فیصلوں کی منظوری دی۔ ان میں ٹمس اسپتالوں میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں، موسی ریور فرنٹ منصوبے کے پہلے مرحلے، سرکاری تعلیمی اداروں میں غذائی سہولتوں کی توسیع اور وی بی جی رام جی ایکٹ کے نفاذ سے متعلق فیصلے شامل ہیں۔ تاہم حکومت نے اس قانون کے خلاف قانونی چارہ جوئی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
وزرا پونگولیٹی سرینواس ریڈی، سیتکا، ادلوری لکشمن کمار اور ایم ایل سی شنکر نائک نے سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
کابینہ نے وی بی جی رام جی ایکٹ پر بھی غور کیا۔ حکومت نے دوبارہ واضح کیا کہ ریاستوں سے مشاورت کے بغیر شامل کی گئی شقوں سے اسے اختلاف ہے۔ تاہم حکام نے بتایا کہ دیگر ریاستیں اس قانون کو پہلے ہی قبول کر چکی ہیں۔ لہٰذا کابینہ نے 1 جولائی 2026 سے تلنگانہ میں اس کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی منظوری دی۔ مزید برآں حکومت نے فیصلہ کیا کہ دیہی روزگار ضمانت اسکیم میں ملازمتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسی دوران اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے اور پارلیمنٹ میں بھی یہ معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
صحت، تعلیم اور فلاحی اقدامات | Cabinet Decisions
کابینہ نے سرکاری اسکولوں اور جونیئر کالجوں میں اساتذہ، لیکچررز اور دیگر عملے کو بھی ناشتے، دودھ اور دوپہر کے کھانے کی سہولت فراہم کرنے کی منظوری دی۔ اس فیصلے سے تقریباً 1.5 لاکھ ملازمین مستفید ہوں گے۔ اس کے علاوہ حکومت نے صحت کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
کابینہ نے صنعت نگر، ایل بی نگر، الوال اور ورنگل میں قائم نئے ٹمس سپر اسپیشلٹی اسپتالوں کے لیے 6,278 آسامیوں کی منظوری دی۔ ان میں 1,494 مستقل، 549 کنٹریکٹ اور 4,235 آؤٹ سورسنگ اسامیاں شامل ہیں۔ مزید برآں حکومت نے ان اسپتالوں کو نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے طرز پر ترقی دینے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے حکام کو ہدایت دی کہ ان مراکز میں علاج کے لیے وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ کے لیٹر آف کریڈٹ بھی جاری کیے جائیں۔
موسی منصوبہ اور اراضی کی منظوری | Cabinet Decisions
کابینہ نے موسی ریور فرنٹ ترقیاتی منصوبے کے پہلے مرحلے کی انتظامی منظوری بھی دی۔ پہلے مرحلے میں 21 کلومیٹر کا حصہ ترقی دیا جائے گا۔ منصوبے کی تخمینی لاگت ₹7,345.12 کروڑ مقرر کی گئی ہے۔ چنانچہ منصوبے کے لیے 147 نئی آسامیوں کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ دیگر سرکاری محکموں سے عملے کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
کابینہ نے ورنگل ضلع کے بولی کنٹہ گاؤں میں 50 ایکڑ اور رنگا ریڈی ضلع کے کرکلا پہاڑ گاؤں میں 10 ایکڑ اراضی تلنگانہ اسٹیٹ ویئر ہاؤسنگ کارپوریشن کو مارکیٹ قیمت پر گوداموں کی تعمیر کے لیے مختص کرنے کی منظوری دی۔ بعد ازاں محبوب نگر ضلع کے پیدا پلی گاؤں میں 20.18 ایکڑ، سوریہ پیٹ کے کوداڈ میں 19.12 ایکڑ اراضی جواہر نوودیہ ودیالیوں کے لیے مختص کی گئی۔ مزید برآں جگتیال ضلع کے چالگل گاؤں میں 5 ایکڑ سرکاری زمین مرکزی ودیالیہ کے قیام کے لیے الاٹ کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
*రాష్ట్ర క్యాబినెట్ తీర్మానాలు (02.07.2026)*
1. కేంద్ర ప్రభుత్వం అమల్లోకి తెచ్చిన వీబీ జీ రామ్ జీ చట్టం రాష్ట్రంలో అమలు చేసే అంశంపై కేబినెట్ చర్చించింది. రాష్ట్రాలను సంప్రదించకుండా కేంద్రం తెచ్చిన ఈ చట్టంలో పొందుపరిచిన నిబంధనలపై మంత్రివర్గం నిరసన తెలిపింది.
కూలీలకు ఉపాధి భరోసా… pic.twitter.com/owperLMwF6
— IPRDepartment (@IPRTelangana) July 2, 2026
