کانگریس حکومت کے خلاف بی جے پی کرے گی احتجاج | BJP Agitation
حیدرآباد:۔ تلنگانہ بی جے پی صدر این رام چندر راو نے کانگریس حکومت کے خلاف احتجاج تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عوام کو درپیش مسائل پر اپنی مہم مزید مضبوط کرے گی۔ رام چندر راو نے پیر کو بی جے پی کے ریاستی دفتر میں میڈیا سے بات کی۔ انہوں نے حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگایا۔
رام چندر راو نے کہا کہ کانگریس حکومت کو اقتدار میں آئے تقریباً 3 سال ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے اپنے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی دکھائی ہے۔ انہوں نے عوامی مسائل پر حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بی جے پی صدر نے کہا کہ پارٹی عوامی مسائل کو مسلسل اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے حالیہ مشاہدات کا بھی حوالہ دیا۔ ان مشاہدات کا تعلق ہائیڈرا اور دیگر سرکاری محکموں سے تھا۔ رام چندر راو نے موجودہ صورتحال کو انتظامی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے حکومت کی انتظامی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔
ہائیڈرا اور زمین کے معاملے پر حکومت پر تنقید | BJP Agitation
این رام چندر راو نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی حکومت نے عدالتوں کو گمراہ کیا۔ انہوں نے بالاپور اور نادرگل میں مبینہ سرکاری اراضی پر قبضوں کا معاملہ اٹھایا۔ ان کے مطابق 300 ایکڑ سے زیادہ سرکاری زمین پر مبینہ قبضہ ہوا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہائیڈرا نے اب تک اس زمین کو واپس کیوں نہیں لیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو سرکاری اراضی کے تحفظ کے لیے واضح کارروائی کرنی چاہیے۔ بی جے پی صدر نے ہائیڈرا کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق عدالت کے مشاہدات انتظامی نظام کے بارے میں اہم سوالات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اس معاملے میں وضاحت طلب کی۔
رام چندر راو نے کہا کہ بی جے پی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گی۔ پارٹی عوام کو متاثر کرنے والے مسائل کو مسلسل اجاگر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی شدت آنے والے دنوں میں مزید بڑھائی جائے گی۔ پارٹی حکومت کے فیصلوں کو عوام کے سامنے لانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی عوامی مسائل پر خاموش نہیں رہے گی۔ پارٹی حکومت کی پالیسیوں پر سیاسی دباؤ برقرار رکھے گی۔ ہائیڈرا اور سرکاری اراضی سے متعلق معاملات بھی اس مہم کا حصہ رہیں گے۔ اسی دوران بی جے پی نے دیگر عوامی مسائل کو بھی اجاگر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ای 20 پٹرول پر کانگریس کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا | BJP Agitation
رام چندر راو نے ای 20 ایتھنول ملے پٹرول کے تنازع پر بھی بات کی۔ انہوں نے کانگریس اور اس کے انڈیا اتحاد کے حلیفوں پر تنقید کی۔ ان کے مطابق اپوزیشن جماعتیں قومی مفاد میں کیے گئے اقدامات کی مخالفت کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایتھنول ملے پٹرول کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا۔
بی جے پی صدر نے کہا کہ ای 20 پٹرول نیشنل ڈیموکریٹک الائنس حکومت کی نئی پہل نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کی سابق حکومت کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق کانگریس کی زیر قیادت حکومت نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے اس کے نفاذ کی سفارش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد وسیع پیمانے پر جانچ کی گئی۔
رام چندر راو نے دعویٰ کیا کہ مختلف مراحل میں جانچ کے بعد ای 20 پٹرول متعارف کرایا گیا۔ انہوں نے موجودہ تنازع کو سیاسی طور پر پیش کرنے پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ایتھنول ملا پٹرول قومی مفاد سے متعلق پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے موقف پر سوال اٹھایا۔
عوامی مسائل پر بی جے پی کی مہم جاری رکھنے کا اعلان | BJP Agitation
رام چندر راو نے کہا کہ بی جے پی عوام سے متعلق تمام اہم معاملات کو اٹھائے گی۔ انہوں نے کانگریس حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سیاسی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق عوامی مسائل پر احتجاج پارٹی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ پارٹی حکومت سے جواب طلب کرتی رہے گی۔
انہوں نے حکومت کی تقریباً 3 سالہ کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔ انہوں نے انتظامی فیصلوں میں خامیوں کا بھی الزام لگایا۔ بی جے پی نے حکومت سے عوامی مسائل پر جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
میڈیا سے بات چیت میں بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری ڈاکٹر این گوتم راو بھی موجود تھے۔ بی جے پی کے چیف آفیشل ترجمان اور میڈیا انچارج این وی سبھاش نے بھی شرکت کی۔ پارٹی رہنماؤں نے حکومت کی پالیسیوں اور موجودہ سیاسی صورتحال پر اپنا موقف پیش کیا۔ اس موقع پر عوامی مسائل کو پارٹی کی آئندہ مہم کا اہم موضوع قرار دیا گیا۔
یوں بی جے پی نے کانگریس حکومت کے خلاف اپنی سیاسی مہم مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی ہائیڈرا، مبینہ سرکاری اراضی قبضوں اور دیگر انتظامی معاملات کو اٹھائے گی۔ ای 20 پٹرول کے معاملے پر بھی بی جے پی اپنا موقف پیش کرتی رہے گی۔ آنے والے دنوں میں عوامی مسائل پر سیاسی سرگرمیاں بڑھنے کا امکان ہے۔
